.

فرانسیسی صدر کی جاسوسی پر امریکی سفیر کی طلبی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فابیئس نے امریکا کی جانب سے صدر فرانسو اولاند اور ان کے دو پیش رو صدور کی جاسوسی سے متعلق خفیہ دستاویزات منظرعام پر آنے کے بعد پیرس میں متعیّن امریکی سفیر کو طلب کیا ہے۔

ایک سفارتی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ امریکی سفیر جین ہارٹلے کو بدھ کی دوپہر وکی لیکس کی جانب سے منگل کو شائع کردہ دستاویزات پر تبادلہ خیال کے لیے وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا ہے۔

وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کا خفیہ ادارہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی (این ایس اے) صدر فرانسو اولاند اور ان کے دو پیش رو صدور ژاک شیراک اور نیکولا سارکوزی کے ٹیلی فون ٹیپ کرتا رہا ہے۔

فرانسیسی صدر نے وکی لیکس کے انکشافات منظرعام پر آنے کے بعد ملک کی دفاعی کونسل کا آج صبح اجلاس طلب کیا ہے۔اس میں منگل کی شام پریس میں شائع ہونے والی معلومات کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ اس سے مفید نتائج اخذ کیے جاسکیں۔

فرانسیسی صدر کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ''فرانس اپنی سلامتی اور اپنے مفادات کے لیے خطرے کا موجب اقدامات سے کوئی رو رعایت نہیں برتے گا''۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ امریکا کی جانب سے فرانسیسی مفادات کی جاسوسی سے متعلق الزامات سامنے آئے ہیں۔

فرانسیسی حکومت کے ترجمان اسٹیفن لی فول نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یہ چیز اتحادیوں کے درمیان بالکل ناقابل قبول ہے۔اتحادیوں کے درمیان یہ قبول کرنا بالکل بھی مشکل ہے کہ ان کے درمیان اس طرح کی سرگرمی ہو سکتی ہے اور بالخصوص جمہوریہ فرانس کے صدر کے فون بھی ٹیپ کیے جاسکتے ہیں''۔

ترجمان نے کہا کہ ''جب ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں تو یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایک اتحادی کی جانب سے اپنے اتحادی ملک کی جاسوسی کے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں''۔

تاہم انھوں نے امریکا کے ساتھ اس معاملے پر ممکنہ تنازعے کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس سے کوئی بڑا بحران پیدا ہونا چاہیے۔آج کی دنیا میں اس سے بھی خطرناک بحران موجود ہیں''۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا اصرار ہے کہ صدر فرانسو اولاند کی مواصلاتی جاسوسی نہیں کی جارہی تھی اور نہ مستقبل میں ایسا کیا جائے گا۔

امریکا کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ ''ہم جب تک کوئی خاص اور ٹھوس قومی سلامتی کا مقصد نہ ہو تو غیرملکی جاسوسی کی سرگرمیاں نہیں کرتے ہیں۔اس کا عام شہریوں اور عالمی لیڈروں دونوں پر اطلاق ہوتا ہے''۔انھوں نے کہا کہ ہم تمام متعلقہ بین الاقوامی امور میں فرانس کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں اور فرانس ہمارا اٹوٹ انگ شراکت دار ہے۔

وکی لیکس نے ''ٹاپ سیکرٹ'' کے عنوان سے یہ خفیہ دستاویزات شائع کی ہیں اور یہ سب سے پہلے فرانسیسی اخبار لبریشن اور نیوز ویب سائٹ میڈیا پارٹ نے شائع کی ہیں۔ان میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سنہ 2012ء کے اوائل میں یونان کے یورو زون سے نکل جانے کی صورت میں مضمرات کا جائزہ لینے کے لیے خفیہ اجلاسوں کی منظوری دی تھی۔

وکی لیکس کے ان انکشافات سے چند ہفتے قبل ہی امریکی صدر براک اوباما نے کانگریس کے منظور کردہ ایک تاریخی قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت حکومت کے ٹیلی فون ڈیٹا کے خفیہ مقاصد کے لیے ڈھیروں کے حساب سے ریکارڈ رکھنے کے پروگرام کو ختم کردیا گیا تھا اور اس طرح نائن الیون کے بعد امریکا کے نگرانی کے متنازعہ پروگرام کو بھی ختم کردیا گیا تھا۔