.

تیونس :سیاحتی ساحلی مقام پر حملے میں 37 افراد ہلاک

کلاشنکوف سے مسلح شخص کی ملکی اور غیر ملکی سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں ایک مشہور ساحلی سیاحتی مقام پر ایک مسلح شخص نے سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر سینتیس ہوگئی ہے جبکہ چھتیس افراد زخمی ہیں۔ مرنے والوں میں جرمن ،برطانوی اور بیلجئین سیاح بھی شامل ہیں۔

تیونسی حکام کے مطابق دہشت گردی کا یہ واقعہ دارالحکومت تیونس سے ایک سو چالیس کلومیٹر جنوب میں بحرروم کے کنارے واقع شہر سوسۃ میں پیش آیا ہے جہاں حملہ آور نے ایک ہوٹل کے احاطے میں گھس کر سیاحوں پر فائرنگ کی ہے۔

ہوٹل کے ایک ملازم نے بتایا ہے کہ ''کلاشنکوف سے مسلح حملہ آور نے ہوٹل کی بیچ میں تیونسیوں اور غیرملکی سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔وہ ایک نوجوان تھا ،شارٹس میں ملبوس تھا اور وہ بہ ذات ایک سیاح دکھائی دے رہا تھا''۔

تیونس کی وزارت داخلہ کے ترجمان محمد علی العروی نے حملے میں قبل ازیں غیرملکی سیاحوں سمیت ستائیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔انھوں نے واقعے کو سوسۃ کے امپریل مرحبا ہوٹل پر دہشت گردی کا حملہ قراردیا ہے۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ساحل سمندر کے کنارے واقع سوسۃ شہر میں دو افراد نے دو ہوٹلوں پر فائرنگ کی ہے۔ان میں سے ایک حملہ آور کو ہلاک کردیا گیا ہے اور پولیس دوسرے کا پیچھا کررہی ہے۔

فوری طور پر کسی گروپ نے اس حملے کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن ماضی میں اسلام پسند جہادی شمالی افریقا کے اس ملک میں سیاحتی مقامات پر فائرنگ کرتے رہے ہیں اور وہ مغربی طرز زندگی اور شراب نوشی پر کوئی قدغن نہ ہونے کو اپنے حملوں کا جواز قرار دیتے رہے ہیں۔

تیونس میں غیرملکی سیاحوں پر اس سال یہ دوسرا بڑا حملہ ہے۔اس سے پہلے دارالحکومت تیونس کے مشہور باردو عجائب گھر پر 18 مارچ کو مسلح افراد نے حملہ کیا تھا۔اس واقعے میں غیرملکی سیاحوں سمیت بائیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے تیونس کے اس تاریخی عجائب گھر پر حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔آتشیں ہتھیاروں سے مسلح افراد نے باردو میوزیم کے مرکزی دروازے پر بسوں سے اترنے والے غیرملکی سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی تھی۔ پھر وہ اس کے اندر داخل ہوگئے تھے اور انھوں نے وہاں موجود لوگوں پر بھی فائرنگ کی تھی۔بعد میں پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے۔