.

ولادی میر پوتین کا شامی صدر کی حمایت جاری رکھنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی صدر ولادی میر پوتین نے ایک مرتبہ پھر اپنے ملک کی جانب سے شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

وہ ماسکو میں شامی وزیرخارجہ ولید المعلم سے گفتگو کررہے تھے۔روسی خبررساں اداروں کے مطابق صدر ولادی میر پوتین نے کہا ہے کہ ''شام ،شامی قیادت اور شامی عوام کے لیے روس کی حمایت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے''۔

ولادی میر پوتین نے خطے کے دوسرے ممالک سے بھی کہا کہ وہ شام کی مسلح اسلامی دھڑوں کے خلاف جنگ میں مدد کریں۔روسی صدر نے چند روز قبل بھی بشارالاسد کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''شام میں جاری لڑائی میں شدت سے صورت حال خطرناک ہوسکتی ہے اور وہ لیبیا میں جاری تنازعے جیسی صورت اختیار کرسکتی ہے''۔

واضح رہے کہ روس شام میں گذشتہ چار سال سے جاری عوامی احتجاجی تحریک اور خانہ جنگی کے دوران شامی صدر بشارالاسد اور ان کی حکومت کی مسلسل حمایت کرتا چلا آرہا ہے۔شام میں جاری خانہ جنگی میں دولاکھ بیس ہزار سے افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

روس کو شامی تنازعے کے پُرامن حل کے لیے اہم ملک خیال کیا جاتا ہے لیکن وہ شامی صدر کی حمایت کرتا چلا آرہا ہے اور اب وہ بحران کے حل کے لیے ان کی اقتدار سے رخصتی کے حق میں بھی نہیں ہے۔روس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شامی صدر کے خلاف پیش کردہ تین قراردادوں کو بھی ویٹو کرچکا ہے۔