تیونس: ہنگامی حالت کے نفاذ پر سیاسی، قانونی حلقوں میں نئی بحث
افریقا کے اہم عرب ملک تیونس میں دہشت گردی کے سلسلہ وار واقعات کے بعد حکومت نے چھ ماہ کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا ہے مگر ملک کے قانونی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے ایمرجنسی کے نفاذ پر ایک نئی بحث جاری ہے۔ بعض سیاسی حلقے ہنگامی حالت کے نفاذ کی حمایت کررہے ہیں جب کہ بعض اس کی کھل کر مخالفت کررہے ہیں۔
تاہم حکومت کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے کئی واقعات کے بعد ملک کو درپیش حالات کے تناظر میں دہشت گردی کے ناسور سے نمٹنے کا آخری حل ایمرجنسی کا نفاذ ہی ہے۔ تیونس کے صدر السبسی نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں بھی اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے۔ حالت جنگ میں ہمیں جو کرنا چاہیے ہم وہی کچھ کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
ملک کی سب سے بڑی منظم مذہبی سیاسی جماعت "تحریک النہضہ" نے صدر الباجی قائد السبسی کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کی حمایت کی ہے۔ جماعت کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک اہم قومی قوت ہونے کے ناطے جماعت یہ سمجھتی ہے کہ دہشت گردی کی حالیہ لہر اور ملک کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے، امن وامان کی بحالی اور اقتصادی ترقی کے لیے ہنگامی حالت کا نفاذ وقت کے اہم ضرورت تھی۔
جماعت کے سربراہ علامہ راشد الغنوشی کے دستخطوں سے جاری ایک بیان میں تمام شہریوں سے پر زور اپیل کی گئی ہے کہ وہ ریاست کے جمہوری اداروں، جمہوری فیصلوں کی حمایت کے ساتھ قومی وحدت اور قومی بیداری کا ثبوت دیں، سیکیورٹی اداروں اور فوج کی مدد کریں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچایا جاسکے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ تحریک النہضہ دہشت گردی کی تمام اقسام کے خلاف ہے۔ تیونسی قوم کو دہشت گردی کی دلدل میں دھکیلنے کے تمام منفی رحجانات کی نفی کرتی ہے اور اس بات پر غیر متزلزل یقین رکھتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ نہ صرف کامیاب ہوگی بلکہ ثمر آور ثابت ہوگی۔ ہم نے معاشرے کو خوف سے نکالنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے جدید وسائل سے بھی استفادہ کیا ہے اور ہم اپنی منزل کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں۔
تیونس میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی مخالفت بھی سامنے آئی ہے۔ اپوزیشن جماعت "ڈیموکریٹک الائنس" کے چیئرمین محمد الحامدی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم سب نے مل کر لڑنی ہے مگر اس جنگ کے لیے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا کوئی جواز نہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے نتیجے میں شہری آزادیاں متاثر ہوں گی اور جمہوری عمل جمود کا شکار ہوجائے گا۔
اپوزیشن رہ نما نے کہا کہ ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا کوئی فائدہ نہیں۔ تیونس کو اس وقت انٹیلی جنس کے شعبے میں ناکامی کا سامنا ہے۔ حکومت کے پاس بھی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عمل نہیں ہے۔ ایسے میں ایمرجنسی کا نفاذ مسئلے کا حل نہیں ہوسکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر فوج کو شہروں کا کنٹرول سونپنے کی بات ہے تو آئین کی دفعہ 18 کے تحت یہ کام ایمرجنسی کے نفاذ کے بغیربھی ہوسکتا ہے۔
تیونس میں ہنگامی حالت کے نفاذ پرجہاں بعض سیاسی حلقے معترض ہیں وہیں قانونی پہلو سے بھی اس پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ جامعہ تیونس سے وابستہ ماہر قانون قیس سعید کا کہنا ہے کہ صدر جمہوریہ کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان پر قانونی پہلو سے بھی کئی اعتراضات اٹھ رہے ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صدر الباجی قائد السبسی کی جانب سے ملک میں ہنگامی حالت کا نفاذ دہشت گردی کے واقعے کے ایک ہفتے بعد کیا ہے۔ جب حالات ویسے ہی بہتری کی طرف جا رہے تھے ایسے میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ قیس سعید کا کہنا ہے کہ حکومتی پالیسیوں سے ایسے لگ رہا ہے کہ موجودہ حکومت ملک کا نظم و نسق سنہ 1959ء کے قانون کے مطابق چلا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنہ 2014ء میں منظور کردہ دستور کی دفعہ 80 صدر مملکت کو ملک میں کسی ہنگامی صورت میں غیر معمولی اقدامات کا اختیار دیتی ہے لیکن یہ اس وقت ممکن ہے جب ملک کسی سنگین خطرے سے دوچار ہوجائے، ملک کی سلامتی اور سالمیت خطرے میں ہو۔ دوسرے الفاظ میں جب حکومت کے پاس اور کوئی راستہ نہ بچے تو وہ ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرسکتی ہے۔ جن حالات میں ایمرجنسی لگائی گئی ہے وہ ایسے نہیں کہ انہیں سدھارا نہ جاسکے۔
بعض مبصرین کے خیال میں ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ عوام کے مفاد اور عوامی مطالبے پر کیا گیا ہے۔ کیونکہ عوام کی اکثریت دہشت گردی کے سلسلہ وار واقعات کے بعد ایسے ہی کسی غیر معمولی اقدام کی توقع کررہی تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک سال قبل بارود کے مقام پر یہودی عبادت گاہ پرحملہ اور حال ہی میں ساحلی شہر سوسہ میں دہشت گردی کے بعد ضروری تھا کہ دہشت گردی کی لعنت سے نجات کے لیے سخت ترین اقدامات کیے جائیں۔
-
تیونس میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی
تیونس کے شہر سوسہ میں دہشت گردوں کے سیاحتی مقام پر 26 جون کو کئے جانے والے حملے ...
بين الاقوامى -
تیونس :ہوٹل حملے کے الزام میں 12 مشتبہ افراد گرفتار
مشتبہ ملزموں پر پڑوسی ملک لیبیا میں عسکری تربیت حاصل کرنے کا الزام
بين الاقوامى -
تیونس کے سابق صدر اسرائیل سے رہائی کے بعد وطن روانہ
غزہ جانیوالا امدادی جہاز اور رضاکار بدستور یرغمال
مشرق وسطی -
تیونس: 35 سال سے کم عمرافراد کے ترکی، مراکش، لیبیا سفر پر پابندی
تیونس کی حکومت نے امن وامان کے نقطہ نظر 35 سال سے کم عمر افراد کے ترکی، لیبیا، ...
بين الاقوامى -
تیونس : حملہ آور سے تعلق کے شُبے میں متعدد افراد گرفتار
تیونس میں حکام نے سیاحتی مقام پر فائرنگ کرنے والے ملزم سے تعلق کے شُبے میں مشتبہ ...
بين الاقوامى -
تیونس :سیاحتی ساحلی مقام پر حملے میں 37 افراد ہلاک
کلاشنکوف سے مسلح شخص کی ملکی اور غیر ملکی سیاحوں پر اندھا دھند فائرنگ
بين الاقوامى