جلال الدین حقانی وفات پاچکے: طالبان ذرائع
افغان طالبان کے قابل اعتماد ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ بزرگ جہادی کمانڈر اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ مولانا جلال الدین حقانی قریباً ایک سال قبل طبی وجوہ کی بنا پر اللہ کو پیارے ہو گئے تھے اور انھیں افغانستان کے مشرقی صوبے خوست میں دفن کردیا گیا تھا۔
مولانا جلال الدین حقانی کی وفات کی خبر افغان طالبان کے امیر ملّا محمد عمر کے انتقال کی خبر سے دو روز بعد سامنے آئی ہے۔البتہ افغان طالبان یا حقانی نیٹ ورک نے باضابطہ طور پر ان کی وفات کی تصدیق سے متعلق کوئی خبر ابھی تک جاری نہیں کی ہے۔
ان کے بارے میں گذشتہ ایک عرصے سے یہ خبریں آرہی تھیں کہ وہ شدید علیل ہیں اور اب ان کے بیٹے سراج الدین حقانی گذشتہ دو ایک سال سے حقانی نیٹ ورک کو چلا رہے ہیں۔
جلال الدین حقانی افغانستان پر سوویت یونین کی افواج کے حملے کے بعد ایک اہم مزاحمتی کمانڈر کی حیثیت سے سامنے آئے تھے اور ان کی قیادت میں جہادیوں نے افغانستان کے جنوبی اور جنوب مشرقی صوبوں میں گوریلا جنگ لڑی تھی۔
سنہ 1980ء کے عشرے میں جلال الدین حقانی امریکی سی آئی اے اور پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے قریب رہے تھے۔1990ء کے عشرے میں افغان جہادی گروپوں کے درمیان باہمی لڑائیوں کے ردعمل میں طالبان تحریک معرض وجود میں آئی تھی۔طالبان نے ملّا محمد عمر کی قیادت میں چند ہی برسوں میں باقی جنگجو گروپوں پر قابو پا لیا تھا اور 1996ء میں کابل پر قبضہ کرکے اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔مولانا جلال الدین حقانی طالبان کے ساتھ مل گئے تھے اور وہ ان کی کابینہ میں سرحدی امور کے وزیر رہے تھے۔
نیویارک اور واشنگٹن پر نائن الیون کے حملوں کے بعد جب امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں نے اکتوبر 2001ء میں افغانستان پر چڑھائی کی تھی اور حالات نے پلٹا کھایا تو مولانا جلال الدین ،اپنے خاندان اور قریبی مصاحبین سمیت پاکستان کے شمال مغربی پہاڑی علاقے شمالی وزیرستان میں مقیم ہوگئے تھے۔یہیں سے انھوں نے افغانستان میں غیرملکی فوجوں کے خلاف نئی مزاحمتی جنگ لڑی تھی۔
ان کے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے ساتھ بھی قریبی تعلقات رہے تھے۔ان کے تحت جہادی گروپ کو امریکی سکیورٹی اداروں اور مغربی ذرائع ابلاغ نے حقانی نیٹ ورک کا نام دے رکھا تھا اور اس پر افغانستان میں غیرملکی فوجوں اور ان کے مفادات پر متعدد تباہ کن حملوں کے الزامات عاید کیے گئے تھے۔
انھوں نے مبینہ طور پر افغانستان کے مشرقی صوبوں میں تربیتی مراکز قائم کررکھے تھے اور ان کے جنگجو مشرقی اور جنوب مشرقی افغانستان اور دارالحکومت کابل میں جنگ آزما تھے۔حقانی نیٹ ورک کے جنگجو آزادانہ طور پر افغانستان میں کارروائیاں کرتے تھے۔البتہ وہ طالبان کے امیر ملّاعمر کے وفادار رہے تھے۔
طالبان ذرائع کے مطابق مولانا جلال الدین حقانی کے دو بیویوں سے دس بیٹے تھے۔ان میں تین امریکی ڈرون حملوں میں مارے گئے تھے۔ان کے ایک بیٹے نصیرالدین حقانی اسلام آباد کے نواحی علاقے بھارہ کہو میں 2013ء میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں قتل ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 31 جنوری 2001ء کو جلال الدین حقانی کا نام اپنی پابندیوں والی فہرست میں شامل کیا تھا اور ان پر دیگر پابندیوں کے علاوہ بیرون ملک جانے پر بھی سفری پابندی عاید تھی۔ان پر امریکا نے بھی پابندیاں عاید کررکھی تھیں اور ان کا نام انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا۔امریکا نے حقانی نیٹ ورک کو دہشت گرد گروپ قرار دے رکھا ہے۔