یورپی یونین:کرد مخالف طاقت کے استعمال پر اظہارِتشویش
ترکی کرد جنگجوؤں کے ساتھ امن عمل کو بچانے کے لیے طاقت کا متناسب استعمال کرے
یورپی یونین نے ترکی کی سکیورٹی فورسز اور کرد جنگجوؤں کے درمیان حالیہ خونریز جھڑپوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور انقرہ پر زوردیا ہے کہ وہ کرد جنگجوؤں کے مقابلے میں متناسب ردعمل کا اظہار کرے تاکہ امن عمل خطرے سے دوچار نہ ہو۔
یورپی یونین کے کمشنر برائے ہمسایہ پالیسی اور مذاکرات جہانیزہاہن نے برسلز میں ترکی کے یورپی یونین کے لیے وزیر وولکن بوذکیر کے ساتھ ملاقات میں اس تشویش کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''تنظیم ترک حکام کی جانب سے داعش کے خلاف جنگ کو تیز کرنے کے لیے عزم کو تسلیم کرتی ہے اور اس ضمن میں مضبوط حمایت کا اعادہ کرتی ہے''۔
مسٹر ہاہن کے دفتر سے منگل کو جاری کردہ بیان کے مطابق:'' کمشنر حالیہ پیش رفت پر یورپی یونین کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔اس کے کرد،ترکی مفاہمتی عمل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے''۔
''یورپی یونین یہ تسلیم کرتی ہے کہ ترکی کو دہشت گردی کی کسی بھی شکل کو روکنے اور اس کا جواب دینے کا حق حاصل ہے اور اس دہشت گردی کی غیر مبہم الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے''۔لیکن اس بیان میں کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) یا کسی کرد گروپ کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے۔
یورپی یونین کے کمشنر نے کہا ہے کہ ''(ترکی کا) ردعمل متناسب ،اہدافی ہونا چاہیے اور اس کو کسی بھی طرح ملک میں جمہوری سیاسی مذاکرات کے لیے خطرے کا موجب نہیں بننا چاہیے۔ترکی کو پورے خطے کے لیے اپنا اہم تزویراتی کردار ادا کرنا چاہیے اور ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے خطہ مزید عدم استحکام سے دوچار ہوسکتا ہو''۔
مسٹر ہاہن نے گذشتہ جمعہ کے روز ترکی کے کردوں کی بڑی سیاسی تحریک پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کے شریک چئیرمین صلاح الدین دیمریطس سے بھی بات چیت کی تھی اور ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام فریقوں کو امن عمل کے لیے عزم کا اعادہ کرنا چاہیے اور ایک وسیع تر سیاسی حل کے لیے کام کرنا چاہیے۔
علاحدگی پسند کرد جماعت پی کے کے اور انقرہ حکومت کے درمیان سنہ 2012ء کے آخر میں امن سمجھوتے پر اتفاق ہوا تھا جس کے تحت کرد باغیوں نے سکیورٹی فورسز پر حملے روک دیے تھے اور ان کے خلاف بھی ترک فوج نے مہم بند کردی تھی لیکن اس کے بعد ترک حکومت اور کردوں کے درمیان امن مذاکرات میں گذشتہ تین عشروں سے جاری اس تنازعے کے تصفیے کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔
کرد جنگجوؤں نے ترک سکیورٹی فورسز پر گذشتہ دو ہفتوں سے حملے تیز کررکھے ہیں۔ان کے ان حملوں کے ردعمل میں ترکی کے لڑاکا طیارے شمالی عراق میں اور اپنے ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر حملے کررہے ہیں۔ان حملوں میں دو ساٹھ سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔
گذشتہ ہفتے عشرے کے دوران پی کے کے کے حملوں میں ترک سکیورٹی فورسز کے کم سے کم بیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں اور ترک سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں دس کرد جنگجو مارے گئے ہیں۔درایں اثناء ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں منگل کے روز ایک حملے میں دو ترک فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔ترک حکام نے پی کے کے کے جنگجوؤں پر اس حملے کا الزام عاید کیا ہے۔