ترکی جلد شام میں داعش کے خلاف جنگ میں شریک ہوگا
امریکا سے مل کر شامی اپوزیشن کے اعتدال پسندوں کو تربیت دے رہے ہیں:ترک وزیرخارجہ
ترکی بہت جلد شام کے شمالی علاقے میں سخت گیر جنگجو گروپ دولتِ اسلامیہ عراق وشام(داعش) کے خلاف جنگ میں شریک ہوجائَے گا۔
اس بات کا اعلان ترک وزیرخارجہ مولود کاوس اوغلو نے ملائشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں بدھ کے روز اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کے ساتھ ملاقات میں کیا ہے۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اس وقت ہم امریکا کے ساتھ مل کر شامی حزب اختلاف کے اعتدال پسند عناصر کو تربیت دے رہے ہیں،انھیں مسلح کررہے ہیں اور بہت جلد داعش کے خلاف فضائی جنگ شروع کردیں گے''۔
انھوں نے کہا کہ ''فضائی حملوں کے بعد داعش کے خلاف لڑنے والی اعتدال پسند اپوزیشن کے لیے زمین محفوظ ہوجائے گی''۔دونوں وزرائے خارجہ نے کوالالمپور میں جنوب مشرقی ایشیا کے دس ملکوں پر مشتمل تنظیم آسیان کے زیر اہتمام علاقائی سکیورٹی کانفرنس کے موقع پر ملاقات کی ہے۔
امریکا ایک عرصے سے ترکی پر داعش کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کے لیے زور دے رہا تھا لیکن وہ اب تک متردد رہا ہے اور اس نے ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں حالیہ تباہ کن خودکش بم حملوں کے بعد اپنا موقف تبدیل کیا ہے۔
ترکی کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ ماہ ان خودکش بم حملوں اور بم دھماکوں کے بعد شام میں داعش کے ٹھکانوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے اور شمالی عراق میں علاحدگی پسند گروپ کردستان ورکرز پارٹی ( پی کے کے) کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ترکی کے لڑاکا طیارے پی کے کے ٹھکانوں پر زیادہ فضائی حملے کررہے ہیں۔
گذشتہ ماہ ترکی نے امریکا کو اپنے جنوب میں واقع انچرلیک ہوائی اڈے کو بھی داعش کے خلاف فضائی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی۔واضح رہے کہ ترکی کی شام کے ساتھ آٹھ سو کلومیٹر طویل سرحد واقع ہے اور اس کی جنوبی سرحد کے ساتھ واقع شام کے شمال مغربی علاقے پر داعش کا کنٹرول ہے۔