اسلامی جنگجو مہاجرین کو بھرتی کررہے ہیں:جرمن انٹیلی جنس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

جرمنی کی انٹیلی جنس ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں حالیہ مہینوں کے دوران اسلامی انتہا پسندوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے اور وہ نئے آنے والے مہاجرین میں سے جنگجو بھرتی کررہے ہیں۔

جرمنی کے داخلی سلامتی کے ذمے دار ''دفتر برائے تحفظ آئین''(بی ایف وی) نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ملک میں راسخ العقیدہ سلفیوں کی تعداد ستمبر میں بڑھ کر اناسی سو ہوچکی ہے جبکہ جون میں ان کی تعداد ساڑھے سات ہزار تھی اور وہ پناہ کے لیے درخواست گزاروں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش کررہے ہیں''۔

اس سراغرساں ادارے کے صدر ہانس جارج ماسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہمیں اس بات پر گہری تشویش لاحق ہے کہ جرمنی میں اسلام پسند انسانی امداد کے پردے میں مہاجرین کی صورت حال سے فائدہ اٹھانے اور پناہ گزینوں میں سے جنگجو بھرتی کرنے کی کوشش کررہے ہیں''۔

داعش کے بھرتی کنندوں پر چھاپے

درایں اثناء جرمن پولیس نے دارالحکومت برلن میں شام اور عراق میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کے شُبے میں مشتبہ افراد کے ٹھکانوں پر آٹھ چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں۔

پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ چھاپہ مار کارروائیاں مقامی وقت کے مطابق منگل کی صبح ساڑھے چھے بجے شروع کی گئی تھیں اور ان کے دوران ایک اکاون سالہ مشتبہ مراکشی شہری کو بھی داعش کے لیے لوگوں کو بھرتی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق داعش کے لیے بھرتی کے عمل میں مقدونیہ سے تعلق رکھنے والا ایک انیس سالہ نوجوان بھی شامل ہے اور وہ اس وقت شام میں داعش کی صفوں میں شامل ہو کر لڑرہا ہے۔جرمن پولیس نے برلن کے وسطی علاقے میں واقع ایک مسجد کے ساتھ ملحقہ تنظیم کے دفتر پر بھی چھاپہ مارا ہے۔

جرمن انٹیلی جنس کے مطابق اس وقت قریباً چھے سو جرمن شہری شام اورعراق میں انتہا پسند جنگجو گروپوں میں شامل ہوکر لڑرہے ہیں۔ان میں کی اکثریت ممکنہ طور پر داعش میں شامل ہو چکی ہے۔مغربی سراغرساں ادارے ماضی میں بھی اس خدشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ عراق اور شام میں جا کر لڑنے والے یورپی شہری اپنے آبائی علاقوں میں واپسی کی صورت میں حملے کرسکتے ہیں اور امن وامان کی صورت حال کو تہ وبالا کرسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں