.

فرانس: شامی رجیم کے جنگی جرائم کی تحقیقات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی حکام نے شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف سنہ 2011ء اور 2013ء کے درمیان جنگی جرائم کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

ایک فرانسیسی ذریعے نے بتایا ہے کہ پیرس میں پراسیکیوٹرز نے 15 ستمبر کو جنگی جرائم کی ابتدائی انکوائری کا آغاز کیا تھا۔ایک سفارتی ذریعے نے اس کی تصدیق کی ہے۔ان تحقیقات میں شامی فوج کے ایک سابق فوٹو گرافر کے فراہم کردہ شواہد کی چھان بین کی جارہی ہے۔

اس سابق فوٹو گرافر کو ''قیصر'' کوڈ نام دیا گیا ہے۔وہ 2013ء میں فوج سے منحرف ہو کر بیرون ملک چلا گیا تھا۔اس نے شام میں جاری خانہ جنگی کے دوران صدر بشارالاسد کی وفادارسکیورٹی فورسز کی سفاکانہ کارروائیوں سے متعلق پچپن ہزار تصاویر تیار کی تھیں۔

فرانس کی جانب سے جنگی جرائم کی تحقیقات کے آغاز کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر شامی بحران کے حل پر غور کیا جارہا ہے۔تاہم اس دوران امریکی صدر براک اوباما اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین کے درمیان اس بحران کے خاتمے کے لیے کسی بات پر اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے اوران کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔

فرانسیسی صدر فرانسو اولاند نے بھی امریکی صدر کے موقف کی حمایت کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ شام کے مستقبل میں بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ''روس اور ایران شامی بحران کے حل کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔اس لیے ہمیں ان ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے اور انھیں باور کرانا چاہیے کہ شامی تنازعے کا حل بشارالاسد سے ہوکر نہیں گزرتا ہے''۔