ایرانی فوج حلب میں بڑے حملے کے لئے پرتول رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کے اہم کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی کمان میں ہزاروں ایرانی فوجی شام کی سرکاری فوج کے ساتھ ملکر حلب میں اپوزیشن فورس کے خلاف کارروائی کے لئے موجود ہیں۔

ادھر امریکی وزیر دفاع آشٹن کارٹر کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ ان کا ملک اور روس شامی فضائی حدود میں پروازوں کو کسی تصادم سے بچانے کی غرض سے کوارڈی نیشن کو مزید آگے بڑھا رہے ہیں۔

شام میں ایرانی فوجی افسروں کی موجودگی نئی بات نہیں لیکن روس کی جانب شام میں فضائی کارروائی کے بعد جنرل قاسم سلیمانی کی قیادت میں بڑے پیمانے پر ایرانی سپاہ کی موجودگی اہم پیش رفت ہے۔

شامی میدان جنگ سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن فورسز اہم جنگی محاذوں امریکی ساختہ ٹینک شکن میزائل استعمال کر رہی ہے جبکہ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع نے روس کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

مسٹر کارٹر کا مزید کہنا تھا کہ روس سے کوارڈی نیشن بالخصوص شامی فضا کے استعمال کے سلسلے میں ہمیں کامیابی ملی ہے۔ ہم جلد ملاقات کریں گے، مذاکرات میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس کے شام میں اختیار کردہ طریقہ کار پر بات کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ ایک غلطی پر مبنی ہے۔ اسٹرٹیجک حوالے سے انتہا پسندوں کے خلاف حملے سیاسی عمل کی حمایت کے معاملے پر کام کے بغیر مفید نہیں۔ یہی بات کم و بیش امریکی وزیر خارجہ جان کیری بھی کر چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں