.

حوثی رہنما عبدالملک توہین صحابہ کا مرتکب!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کا تختہ الٹنے والے ایران نواز شیعہ شدت پسند حوثی گروپ کے سربراہ عبدالملک الحوثی پر صحابہ کرام کی توہین اور ان کی شان میں گستاخی کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن کے سیاسی تجزیہ نگاروں نے عبدالملک الحوثی کی پچھلے دو سال کی تقاریر کو سامنے رکھتے ہوئے بتایا ہے کہ اب تک کسی کی توجہ حوثی لیڈر کی توہین صحابہ سے متعلق گفتگو کی طرف نہیں جا سکی ہے۔ حالانکہ وہ کھلے عام صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی توہین اور ان پر طعن وملامت کے مرتکب ہوئے ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگار سعید عبدہ نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ پچھل دو برس سے حوثی باغی لیڈر عبدالملک الحوثی کے ہر چھوٹے بڑے بیان اور تقریر کو توجہ کے ساتھ سنتے اور پڑھتے رہے ہیں۔ اپنی تقریروں اور بیانات میں وہ کبھی کھلے عام اور کہیں دبے لفظوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کبار کی شان میں گستاخی کرتے رہے ہیں۔ یمن میں پچھلے برس ستمبر میں جب سے حوثیوں نے صنعاء حکومت کا تختہ الٹا اس کےبعد سے حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی کے صحابہ کرام کے خلاف بیانات بھی زور پکڑ گئے تھے۔

سعید عبدہ نے بتایا کہ ماضی میں حوثی لیڈر اپنی تقریروں کآغاز "الصلواۃ والسلام علی النبی الکریم وآلہ الاطھار اور صحبہ النجباء" کے الفاظ سے کرتے رہے ہیں مگر گذشتہ کچھ عرصے سے عبدالملک لحوثی نے اس عبارت میں صحابہ کرام کا ذکر ختم کردیا ہے۔ ان کا تازہ بیان حال ہی میں یوم عاشوراہ کےموقع پر ایک ٹی وی پر نشر کیا گیا جس میں انہوں نے صلواۃ سلام میں صحابہ کو شامل نہیں کیا۔

تجزیہ کارعبدہ کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے دلوں میں صحابہ کرام کی کوئی عزت واحترام نہیں۔ وہ ماضی میں صلواۃ و سلام میں صحابہ کرام کا نام لیتے بھی رہے ہیں تو ان کا مقصد ان کا دل سے احترام نہیں بلکہ یمن کی سنی آبادی کی ہمدردیاں سمیٹنے کی ایک بھونڈی کوشش تھی۔ بغاوت کے بعد ان کی تقریروں نے ان کے اندر کا بغض صحابہ پوری قوم کے سامنے آشکار کر دیا ہے۔