.

''یمن داخلی استحکام کے بعد جی سی سی میں شامل ہوگا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی وزیر برائے منصوبہ بندی محمد میتمی نے کہا ہے کہ ملک میں امن وامان کی صورت حال کی بحالی اور استحکام کے بعد خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) میں شمولیت کی درخواست دی جائے گی۔

یمنی وزیر نے العربیہ نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ صدر عبد ربہ منصور ہادی ملک میں استحکام اور تعمیر وترقی کے منصوبوں کے آغاز کے بعد جی سی سی میں شمولیت کے لیے باضابطہ طور پر درخواست دائر کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ ''یمن آج ایک بڑی سیاسی جنگ لڑرہا ہے۔جب ہم اس کو پایہ تکمیل کو پہنچا لیں گے تو پھر تزویراتی منصوبے کے تحت جی سی سی میں شمولیت ہمارا اگلا اقدام ہوگا''۔البتہ صدر منصور ہادی کی جانب سے تنظیم میں شمولیت کے درخواست کے ساتھ ہی رُکنیت کے حصول کا باضابطہ عمل شروع ہوجائے گا۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت یمن اپنے خلیجی شراکت داروں کے ساتھ جی سی سی میں شمولیت کے لیے تعاون کررہا ہے اور کونسل کے رکن ممالک یمن کی شمولیت کا خیرمقدم کرنے کو تیار ہیں۔

یمنی وزیر کا کہنا تھا کہ''ملک میں اس وقت ایک خصوصی کمیشن صحت عامہ ،تعلیم ،توانائی اور مکانات کے شعبوں میں ضروریات کے سلسلے میں ایک پروگرام کے تحت کام کررہا ہے۔اس کی تفصیل جی سی سی کو پیش کی جائے گی اور یہ پروگرام کونسل میں شمولیت کے مقصد کے حصول کی جانب بھی ایک ستون کی حیثیت رکھتا ہے''۔

انھوں نے یمن کی خلیج تعاون کونسل میں شمولیت کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک تو ہمارا ملک خلیجی عرب ریاستوں میں گھرا ہوا ہے اور دوسرا یہ علاقائی اور خلیجی سکیورٹی کے لیے بھی ضروری ہے کیونکہ یمن کو درپیش سکیورٹی اور سیاسی چیلنجز مقامی صورت حال کو متاثر کرتے ہیں اور اس سے علاقے اور خلیج کے استحکام کے لیے بھی خطرات پیدا ہوجاتے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں پانچ خلیجی عرب ممالک یمن میں حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف 26 مارچ سے فضائی حملے کررہے ہیں۔البتہ تنظیم کا ایک رکن ملک اومان اس فضائی مہم میں شریک نہیں ہے۔تنظیم جنگ سے متاثرہ یمنیوں کی بحالی کے لیے صدر منصور ہادی کی حکومت کی مالی مدد کررہے ہیں۔معاونت بھی کررہی ہے۔