.

طیارہ حادثے میں 'دہشت گردی' کا ہاتھ ہو سکتا ہے: ماسکو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی حکومت [کرملین] کے ترجمان نے سوموار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ مصر میں گرنے والے روسی مسافر طیارے کی تباہی میں دہشت گردی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اس امر کا اظہار انہوں نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کیا۔

دوسری جانب مصر میں تباہ ہونے والے جہاز سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کے ذرائع نے کہا تھا کہ روسی جہاز 'پر باہر سے کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔'

سیناء میں تباہ ہونے والے جہاز کی ملکیتی کمپنی نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ حادثے کا سبب 'بیرونی کارروائی' ہی ہو سکتا ہے۔

سوموار کے روز تباہ ہونے والی روسی طیارے کے ہلاک شدہ مسافروں کی لاشیں لیکر ایک خصوصی طیارہ روس کے شمال مغربی علاقے سینٹ پیٹرز برگ میں اترا۔ مصری حکام نے بتایا تھا کہ خصوصی طیارے میں 162 لاشیں لیجائی گئی ہیں۔

اتوار کی شب روس کے دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرز برگ میں ہزاروں افراد طیارہ حادثے میں ہلاک ہونے والے 217 مسافروں اور عملے کے سات افراد کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرنے جمع ہوئے۔

ہلاک ہونے والوں میں تین یوکرینی شہری شامل تھے جبکہ باقی تمام کا تعلق روس سے بتایا جاتا ہے۔ روس کی تاریخ کا یہ سب سے خوفناک فضائی حادثہ تھا۔