''جرمنی میں گرفتار مشتبہ شخص پیرس جارہا تھا''
مشتبہ شخص پیرس حملوں پر بات سے انکاری ،گاڑی میں پڑے اسلحے سے بے خبر
جرمن پولیس نے کہا ہے کہ دس روز قبل دھماکا خیز مواد اور کلاشنکوفوں کے ساتھ گرفتار ہونے والا مشتبہ شخص ایفل ٹاور کی سیر کے لیے پیرس جارہا تھا لیکن اس نے فرانسیسی دارالحکومت میں جمعہ کی شب ہونے والے حملوں کے بارے میں کوئی بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔
جرمنی کی جنوبی ریاست بویریا میں پولیس کے ترجمان نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''ہم اس کے ساتھ پیرس حملوں سے متعلق بات کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ اس موضوع پر کسی بھی صورت میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا ہے''۔
جرمن پولیس نے جنوبی علاقے بویریا میں پانچ نومبر کو ایک موٹروے پر معمول کی تلاشی کے دوران اس اکاون سالہ مشتبہ شخص کو گرفتار کیا تھا اور اس کی گاڑی سے آٹھ آتشیں رائفلیں ،تین ریوالورز اور بارود برآمد کیا تھا۔اس کا تعلق مونٹی نیگرو سے بتایا گیا ہے۔
پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس مشتبہ شخص کی کار سے کاغذ پر پیرس کا ایک پتا بھی لکھا ہوا ملا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ پیرس میں ایفل ٹاور کی سیر کے لیے جانا چاہتا تھا اور پھر وہاں سے اس نے اپنے گھر واپس چلے جانا تھا۔پولیس کے بہ قول اس شخص کو اپنی کار میں اسلحے اور گولہ بارود کی موجودگی کے بارے میں بھی کوئی علم نہیں تھا۔
اس کی ووکس ویگن گالف کار میں نصب نیوی گیشن سسٹم سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مونٹی نیگرو سے کروشیا ، سلوینیا اور آسٹریا پہنچا تھا اور وہاں سے جرمنی آیا تھا مگر روزنہیم میں موٹروے پر پولیس نے اس کو روک لیا تھا۔
جرمن وزیر داخلہ تھامس ڈی میزائرے نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ''حکام ابھی تک اس مشتبہ شخص اور پیرس حملوں کے درمیان کسی قسم کے تعلق کے حوالے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں''۔
لیکن ریاست بویریا کے وزیراعظم ہاروسٹ سی ہوفر کا کہنا تھا کہ ''اس مشتبہ شخص اور پیرس میں حملے کرنے والوں کے درمیان تعلق پر یقین کرنے کا جواز موجود ہے''۔
پیرس میں جمعہ کی شب چھے مختلف مقامات پر فائرنگ اور بم دھماکوں میں ایک سو انتیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔داعش نے ان حملوں کی ذمے داری قبول کی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کے آٹھ جنگجوؤں نے یہ حملے کیے تھے۔فرانسیسی حکام نے سات حملہ آوروں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔