اوباما، پوتین شام میں جنگ بندی اور انتقالِ اقتدار پر متفق
امریکی صدر براک اوباما اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین نے شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے اور سیاسی انتقالِ اقتدار کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں صدور نے اتوار کے روز ترکی کے ساحلی مقام انطالیا میں گروپ 20 کے سربراہ اجلاس کے موقع پر پینتیس منٹ تک ملاقات کی ہے اور اس میں شامی تنازعے کے حل کے ضمن میں کوششوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار نے بیان میں کہا ہے کہ ''صدر اوباما اور صدر پوتین نے شامیوں کی قیادت اور شامیوں کے درمیان سیاسی انتقالِ اقتدار کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے اور کہا ہے کہ اس مقصد کے لیے مذاکراتی عمل اقوام متحدہ کی ثالثی میں شامی حزبِ اختلاف اور حکومت کے درمیان پایہ تکمیل کو پہنچنا چاہیے۔
صدر اوباما نے دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلاف جنگ میں شریک تمام ممالک کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ شام میں اس گروپ کو روس کی جنگی کاوشوں کا محور بنایا جانا چاہیے۔
ایک روز قبل ہی آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقدہ شام امن مذاکرات میں شریک عالمی سفارت کاروں نے خانہ جنگی کا شکار ملک میں چھے ماہ میں عبوری حکومت کے قیام اور اٹھارہ ماہ میں نئے عام انتخابات کے انعقاد سے اتفاق کیا تھا۔ان مذاکرات میں سترہ ممالک کے وزرائے خارجہ ،اعلیٰ عہدے داروں اور تین عالمی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی تھی۔
امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے بہ قول جنوری 2016ء تک شامی حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان براہ راست مذاکرات شروع کرائے جائیں گے اور اس کے بعد آیندہ اٹھارہ ماہ میں انتخابات کردیے جائیں گے۔ان مذاکرات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک نے شام میں جنگ بندی کے حق میں ایک قرارداد منظورکرانے سے بھی اتفاق کیا تھا۔