خودکش بمباروں کی گاڑیوں پر"حورعین" کی نمبر پلیٹ!

"سعودی عرب القاعدہ سے کیسے نمٹ رہا ہے" دستاویزی فلم العربیہ پر نشر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

العربیہ نیوز چینل پر تین اقساط پر مشتمل ایک دستاویزی فلم پیش کی جا رہی ہے جس میں القاعدہ کے خود کش بمباروں کے طریقہ واردات کے ساتھ ساتھ یہ بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کس طرح القاعدہ کا سامنا کر رہا ہے۔

'سعودی عرب القاعدہ کا کیسے سامنا کر رہا ہے' عنوان سے دستاویزی فلم میں بتایا گیا ہے کہ شدت پسند خودکش بمباروں کی ذہن سازی کے لیے اخروی زندگی میں اہل ایمان کے لیے کیے گئے وعدوں اور انعام و اکرام کو اپنے حق میں بہ طور پروپیگنڈہ استعمال کرتے ہیں۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا کہ خود کش بمبار اپنی گاڑٰیوں کی جعلی نمبر پلیٹوں پر بھی "حورعین" کی اصطلاح کا استعمال کرتے ہیں۔ شدت پسندوں کا گمان ہے کہ موت سے ہمکنار ہوتے ہی انہیں جنت کی ابدی نعمتوں سے سرفراز کیا جائے گا اورانہیں اس خود کش حملے کے صلے میں 72 حوریں عطا کی جائیں گی۔

جمعرات کی شام دستاویزی فلم کا دوسرا حصہ نشر کیا گیا جس میں سنہ 2004ء میں پیش آئے ایک واقعے کے تناظر میں امریکی شہری پال جانس کی انگریزی میں ہونے والی گفتگو پیش گئی۔ پہلی بار منظر عام پر آنے والی اس فوٹیچ کا کلائمیکس جانسن کی گلہ دبا کر ہلاکت کے دلخراش منظر پر ہوتا ہے۔

دستاویزی فلم میں سعودی عرب میں القاعدہ جنگجوئوں کے ہاتھوں ہونے والے تباہ کن خونی حملوں کا احوال بھی بیان کیا گیا۔ ان میں سنہ 2004ء میں الخبر شہر کے رہائشی علاقے اور مختلف کمپنیوں کے مراکز کے درمیان القاعدہ کے حملوں کا احوال بھی بیان کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب کے شہری القاعدہ کا کیسے سامنا کر رہے ہیں۔

سنہ 2004ء میں دہشت گردی کا یہ واقعہ مئی کے مہینا میں الخبر شہر میں پیش آیا تھا جب چار مسلح دہشت گردوں نے دو مقامی کمپنیوں کے دفاتر اور ایک رہائشی پلازے پر اندھا دھند فائرنگ کے بعد بڑی تعداد میں شہریوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے دہشت گردوں کو بھی محاصرے میں لے لیا تھا۔

ان خونی وارداتوں، شہریوں کے قتل عام اور انہیں ذبح کیے جانے کے ہولناک مناظر جائے وقوعہ پر نصب کیمروں میں محفوظ ہو گئے تھے۔ بعد ازاں سعودی پولیس اور سیکیورٹی حکام نے دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے دو سوکے قریب شہریوں کا محاصرہ کرکے انہیں چھڑا لیا تھا۔

پولیس کی کارروائی کے باوجود دہشت گرد 22 سعودی اور غیر ملکی شہریوں کو قتل کرنے میں میں کامیاب رہے تھے۔ فرار کی کوشش کے دوران نمر البقمی نامی ایک دہشت گرد گر پڑا۔ اسے گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں دہشت گردی کے الزام میں اسے پھانسی دے دی گئی تھی۔ اس کے دو ساتھیوں کو ریاض میں پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا چوتھے کو القصیم سے پکڑا گیا اور اسے بھانسی دے دی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں