ترکی اور روس میں مصالحت کرانا ہمارا فرض ہے: ایران
ایران نے اپنے اتحادی روس اور ترکی کے درمیان مصالحت کے لیے ازخود ہی کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے اور کہا ہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کرانا ہماری ذمے داری ہے لیکن ابھی اس بیان کی صدائے بازگشت سنی ہی جارہی تھی کہ ایرانی میڈیا نے بھی روس کی طرح ترک صدر رجب طیب ایردوآن پر یہ الزام عاید کردیا ہے کہ وہ داعش سے شام کے تیل کی خریداری میں ملوّث ہیں۔
ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر برائے امور خارجہ علی اکبر ولایتی نے کہا ہے:''ایران کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ ترکی اور روس کے درمیان کشیدگی کو کم کرے کیونکہ خطے کی پہلے سے کشیدہ صورت حال کے پیش نظر ایک اور کشیدگی کو ہوا دینا (کسی کے لیے) بہتر نہیں ہے''۔
روس اور ترکی کے درمیان 24 نومبر کو روسی فضائیہ کے ایک لڑاکا جیٹ کو شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں مارگرائے جانے کے بعد سے سخت کشیدگی پیدا ہوچکی ہے۔دونوں ملکوں کے لیڈروں کے درمیان سخت اور الزامی بیانات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے اور اگلے روز روس نے ترکی کے خلاف اقتصادی پابندیاں بھی عاید کردی ہیں۔
روس نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور ان کے خاندان پر داعش کے ساتھ تیل کی تجارت میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا لیکن ترکی نے اس الزام کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دے کر مسترد کردیا تھا۔ترک صدر نے گذشتہ ہفتے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ترکی کے پاس ماسکو کے شام میں باغیوں سے تیل خریدنے کے ''ثبوت'' موجود ہیں۔
اس دوران ایرانی میڈیا نے بھی روسی مؤقف کی ترجمانی کرتے ہوئے اس کے دعووں کی تشہیر شروع کردی تھی۔اس کے ردعمل میں صدر رجب ایردوآن نے اپنے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ اگر ایران نے ترکی کے خلاف الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھا تو اس کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ ترک صدر کے اس سخت دھمکی آمیز بیان کے بعد ایرانی میڈیا کی ویب سائٹ سے ترکی کے خلاف مواد کو ہٹا دیا گیا ہے۔
ایران کی مصالحتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ عراق اور شام میں موجود ان کے فوجی مشیروں کے پاس داعش کے تیل سے لدے ٹرکوں کے ترکی کی جانب جانے کی تصاویر موجود ہیں۔
لیکن اس کے بعد علی اکبر ولایتی نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''روس کی جانب سے اپنے دعوے کے حق میں جاری کردہ ثبوت کا مطلب یہ ہے کہ اب مزید دستاویز کو شائع کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ہمیں کسی کی طرف داری نہیں کرنی چاہیے''۔