.

یمن امن مذاکرات سے قبل 7 یوم کے لیے جنگ بندی کی تصدیق

یمنی صدر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو سیز فائر سے آگاہ کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صدر عبد ربہ منصور ہادی نے اقوام متحدہ کو بتایا ہے کہ انھوں نے سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کو 15 دسمبر سے سات روز کے لیے جنگ بندی کے لیے کہ دیا ہے۔اسی روز اقوام متحدہ کی ثالثی میں یمن میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات ہوں گے۔

یمنی صدر منصور ہادی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون کو سوموار کو ایک خط لکھا ہے جس میں انھیں مطلع کیا ہے کہ''انھوں نے اتحاد کی قیادت کو سات روز کے لیے جنگ بندی سے متعلق اپنے ارادے سے آگاہ کردیا ہے۔یہ عارضی جنگ بندی 15 سے 21 دسمبر تک جاری رہے گی''۔

انھوں نے کہا کہ ''یہ مشاورتی اجلاس کے ساتھ ہی ہوگی اور حوثیوں کی جانب سے وعدے کے بعد خود کار طریقے سے اس کی تجدید ہوجائے گی''۔یمنی صدر نے یہ خط اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی بھیجا ہے اور اس میں مزید کہا ہے کہ'' آپ اقوام متحدہ کے ایلچی کو آگاہ کردیں گے کہ وہ حوثیوں سے جنگ بندی کے احترام کو یقینی بنائیں اور وہ مستقل جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ اتحادی فورسز سیز فائر کی کسی خلاف ورزی کی صورت میں کوئی کارروائی نہ کریں۔

انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ''جنگ بندی ہماری خواہش پر ہورہی ہے تاکہ ملک میں جاری خونریزی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی میں مشاورتی عمل کو کامیاب کیا جاسکے اور جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امداد بہم پہنچائی جا سکے۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد نے جنیوا میں سوموار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا تھا کہ 15 دسمبر کو امن مذاکرات سے قبل حوثی باغیوں اور یمنی حکومت کے درمیان عارضی جنگ بندی ہوجائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ''یمنی حکومت اور باغی گروپوں سمیت ہر کسی نے عارضی جنگ بندی کی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے''۔البتہ انھوں نے اعتراف کیا ہے کہ مستقل جنگ بندی کا انحصار مذاکرات کے نتائج پر ہوگا۔