فرانس داعش مخالف جنگ کو لیبیا تک لے جائے گا: وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانسیسی وزیراعظم مینول والس نے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف بین الاقوامی جنگ کو لیبیا تک لے جانے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے جمعے کے روز فرانس انٹرریڈیو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم حالتِ جنگ میں ہیں۔ہمارا ایک دشمن ہے داعش۔ہم اس سے شام اور عراق میں لڑیں گے، اس کو شکست دیں گے اور اس کے خلاف جنگ کو بہت جلد لیبیا تک لے جائیں گے''۔

انھوں نے کہا کہ ''خطرہ بدستور موجود ہے کیونکہ ہمارے سیکڑوں حتیٰ کہ ہزاروں نوجوان کا سخت گیر بننے کا خطرہ موجود ہے''۔وہ پیرس میں داعش کے خودکش بمباروں کے حملوں کے چار ہفتے کے بعد گفتگو کررہے تھے۔

فرانسیسی طیاروں نے گذشتہ ہفتے لیبیا میں نگرانی کی پروازیں شروع کی تھی۔لیبیا میں 2011ء میں معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے اور اس سے فائدہ اٹھا کر داعش کے جنگجو بھی عراق اور شام سے ادھر در آئے ہیں۔اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق داعش کے قریباً دو سے تین ہزار جنگجو لیبیا میں بروئے کار ہیں اور ان میں ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ ساحلی شہر سرت میں موجود ہیں۔

فرانس نے داعش کی جانب سے پیرس حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کے بعد شام میں اس کے ٹھکانوں کے خلاف حملے تیز کردیے تھے۔پیرس میں 13 نومبر کی شب کنسرٹ ہال ،فٹ بال اسٹیڈیم ،کیفے اور ریستورانوں پر دہشت گردوں کے حملوں میں ایک سو تیس افراد ہلاک اور ساڑھے تین سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں