.

لیبیا کی 24 میونسپلٹیوں کے قومی حکومت کے سمجھوتے پر دستخط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی چوبیس میونسپلٹیوں کے سربراہوں نے ملک میں قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پائے سمجھوتے پر دستخط کردیے ہیں۔اقوام متحدہ کے لیبیا کے لیے خصوصی ایلچی مارٹن کوبلر نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔

مارٹن کوبلر نے تیونس میں لیبیا کے ان بلدیاتی اداروں کے میئروں کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''مجھے بہت خوشی ہے کہ چوبیس میئروں نے لیبیا کے سیاسی سمجھوتے پر دستخط کردیے ہیں''۔

لیبیا کی متحارب پارلیمانوں کے ارکان اور سیاسی شخصیات نے گذشتہ جمعرات کو مراکش میں جنگ زدہ ملک میں قومی اتحاد کی واحد حکومت کی تشکیل کے لیے اختلافات کے باوجود اس سجھوتے پر دستخط کیے تھے۔

تاہم طرابلس اور طبرق میں قائم پارلیمانوں کے سربراہوں نے اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پائے اس سمجھوتے کی مخالفت کی تھی اور انھوں نے خبردار کیا تھا کہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور جو سیاست دان اس پر دستخط کررہے ہیں،وہ ذاتی حیثیت میں ایسا کررہے ہیں۔ان دونوں سربراہوں نے اس کے بجائے تیونس میں اسی ماہ کے اوائل میں ایک اور متبادل معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

مارٹن کوبلر نے گذشتہ جمعرات کو ایک بیان میں یہ بات تسلیم کی تھی کہ خانہ جنگی کا شکار لیبیا میں قیام امن اور قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل کے لیے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔تاہم انھوں نے سوموار کو بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے سمجھوتے پر دستخط کے موقع پر منعقدہ تقریب میں کہا ہے کہ ''یہ لیبیا کے لیے ایک طویل سفر کا آغاز ہے''۔

انھوں نے کہا:''یہ بہت اہم ہے کہ میونسپلٹیاں تین روز قبل صخیرات میں طے پائے لیبیا کے سیاسی سمجھوتے کا حصہ بن گئی ہیں''۔تیونس میں اس سمجھوتے پر دستخط کرنے والوں میں طرابلس کے نزدیک واقع شہر سبراثہ ،الزنتان ، البیضا اور مصراتہ کے میئر بھی شامل ہیں۔مسٹر مارٹن کوبلر نے ان پر زوردیا ہے کہ وہ لیبیا کے شہریوں کو بجلی ،پینے کا صاف پانی اور دوسری بنیادی ضروریات مہیا کرنے کے لیے اقدامات کریں اور اس مقصد کے لیے ایک مضبوط قومی حکومت کی تشکیل ناگزیر ہے۔

انھوں نے اتوار کو ایک انٹرویو میں اس امید کا اظہار کیا تھا کہ طرابلس میں اسلامی ملیشیاؤں پر مشتمل فجر لیبیا نئی حکومت کو کام کرنے دے گی۔انھوں نے یہ بھی توقع ظاہر کی تھی کہ ''لیبیا کے تمام فریقوں ریگولر آرمی ،ریگولر پولیس اور ملیشیاؤں کے ساتھ سمجھوتا طے پاجائے گا''۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل لیبیا کی نئی مجاز حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے ایک قرار داد کی منظوری دے گی۔

لیبیا میں 2011ء میں سابق مطلق العنان صدر کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے طوائف الملوکی کا دور دورہ ہے۔اس وقت ملک میں دو متوازی حکومتیں اور پارلیمان کام کررہی ہیں۔دارالحکومت طرابلس میں اسلامی گروپوں پر مشتمل فجر لیبیا کے تحت حکومت قائم ہے اور ملک کے مشرقی علاقوں میں وزیراعظم عبداللہ الثنی کی قیادت میں حکومت کی عمل داری ہے۔اس کے دفاتر مشرقی شہر طبرق میں قائم ہیں۔

عبداللہ الثنی کی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اس کا دارالحکومت طرابلس اور ملک کے مغربی علاقوں میں کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ان دونوں حکومت کے زیر اثر مسلح ملیشیاؤں کے درمیان ایک دوسرے کے علاقوں پر قبضے کے لیے مسلح جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔اب حالیہ مہینوں کے دوران لیبیا میں داعش کے ظہور کے بعد عالمی برادری ملک کے مستقبل کے حوالے سے سے اپنی تشویش کا اظہار کرتی رہی ہے۔