افغان طالبان: قطر میں ''سیاسی دفتر'' کی اتھارٹی کی توثیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

افغان طالبان نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کھولے گئے اپنے سیاسی دفتر کی توثیق کردی ہے اور واضح کیا ہے کہ ان کی جانب سے یہ دفتر ہی (کسی دوسرے فریق سے) مذاکرات کا مجاز ہے۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اتوار کو ای میل کے ذریعے بھیجے گئے ایک بیان میں دوحہ میں واقع اس دفتر کو تسلیم کیا ہے۔اس دفتر میں بند کمرے میں غیر رسمی مذاکرات چل رہے ہیں۔

واضح رہے کہ ماضی میں یہی دفتر افغان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ براہ راست اور امریکی حکام کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کرتا رہا ہے۔گذشتہ سال مری میں پاکستان کی میزبانی اور ثالثی میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا دور ہوا تھا لیکن اس کے بعد سے فریقین کے درمیان دوبارہ براہ راست بات چیت نہیں ہوسکی ہے۔اب طالبان نے یہ شرط عاید کردی ہے کہ مذاکرات سے قبل ان کا نام اقوام متحدہ کی پابندیوں والی فہرست سے نکالا جائے۔

ماضی میں افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے اور قیام امن کے لیے طالبان اور کابل حکومت کے درمیان دوحہ میں مذاکرات کا اہتمام ایک تھنک ٹینک پگواش کانفرنس برائے سائنس اور عالمی امور کرتا رہا ہے۔پگواش گروپ دنیا میں جاری تنازعات کے مذاکرات کے ذریعے پُرامن حل کے لیے کوشاں ہے اور اس کو اس کی خدمات کے اعتراف میں نوبل امن انعام سے بھی نواز جاچکا ہے۔

طالبان کے قطر دفتر کے ارکان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان کا ملّا اختر منصور سے براہ راست رابطہ ہے۔ملّا اختر منصور کو گذشتہ سال ملّا محمد عمر کے انتقال کی خبر منظرعام پر آنے کے بعد افغان طالبان نے اپنا امیر منتخب کیا تھا۔تاہم بعض طالبان کمانڈروں اور ان کے پیروکاروں نے انھیں اپنا امیر تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا اور انھوں نے افغانستان کے بعض علاقوں میں ان کی قیادت کے خلاف ہتھیار بھی اٹھا لیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں