اسرائیل فلسطین معاہدے کا خواب پورا ہونا ممکن نہیں ، ڈونلڈ ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ممکنہ ریپبلکن امیدواروں کی دوڑ میں سبقت رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مستقل امن کے معاہدے تک پہنچنا ناممکن ہوسکتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مشکل قسم کے پراپرٹی معاہدوں سے متعلق مذاکرات کا تجربہ رکھنے کی وجہ سے وہ امریکا کا صدر بننے کی اہلیت رکھنے والے موزوں ترین شخص ہیں۔

بدھ کے روز جنوبی کیلیفورنیا میں "MSNBC" ٹی وی اسٹیشن کے ایک سیشن میں ٹرمپ نے بتایا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ (اسرائیل- فلسطین) معاہدہ ہونا "بہت بہت مشکل ہے"۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان صرف اس وجہ سے قابل غور نہیں ہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران اسرائیل یا مشرق وسطیٰ میں امن عمل کو زیربحث نہیں لائے بلکہ یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ مذکورہ بیان امن معاہدے کے امکانات کے حوالے سے ان کی رائے میں تبدیلی کا مظہر نظر آرہا ہے۔

گزشتہ سال دسمبر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر وہ امریکا کے صدر منتخب ہوگئے تو اپنا عہدہ سنبھالنے کے 6 ماہ کے اندر فریقین کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کے لیے کام شروع کردیں گے۔ اپنے سابقہ بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ معاہدے تک پہنچنا مشکل ہوگا ... تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا اسرائیلی واقعی میں امن معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

اپنے تازہ بیان میں ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے ایک اسرائیلی سے یہاں تک سنا ہے کہ "دوسرا فریق (فلسطینی) اپنے بچوں کے دلوں میں بچپن ہی سے یہودی قوم کی نفرت بٹھانے کی تربیت دیتا ہے"، اس وجہ سے ممکن ہے کہ معاہدہ کامیاب نہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ "آپ کے ساتھ ایک ایسا فریق ہے جو اس معلومات کے ساتھ پروان چڑھتے ہیں کہ یہ (یہودی/اسرائیلی) بد ترین لوگ ہیں ... ہوسکتا ہے یہ اس وقت دنیا کا مشکل ترین معاہدہ ہو اور ممکن ہے کہ یہ ہو ہی نہ سکے"۔

تاہم ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ معاہدے کی خاطر کوشش جاری رکھیں گے اگرچہ کامیابی کے مواقع تھوڑے ہی کیوں نہ ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں