شہید فلسطینی، اسرائیل کے لئے ڈراؤنا خواب بن گئے
اسرائیل نے شہدا کے جسد خاکی واپسی کے لئے شرمناک شرائط عائد کر دیں
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حالیہ دنوں میں صہیونی فوجیوں پر حملوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اسرائیلیوں کی گولیوں کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں کے جسد خاکی اس شرط پر لواحقین کو واپس کرنے پر تیار ہے اگر انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے کہ شہید فلسطینیوں کی تدفین رات کے وقت کی جائی گی اور اس میں گنے چنے افراد ہی شرکت کریں گے۔
اس امر کا اعلان اسرائیلی وزارت پبلک سیکیورٹی نے سوموار کے روز کیا ہے۔
اسرائیلی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ ابھی تک شہید فلسطینیوں کے لواحقین کی جانب سے اسرائیلی شرائط کو منظور نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ دو فلسطینیوں کی لاشیں منگل کے روز تک شہدا کے مشرقی بیت المقدس میں مقیم لواحقین کے حوالے کی جاسکتی ہیں۔
مقبوضہ فلسطین میں گذشتہ برس اکتوبر سے سر اٹھانے والی تشدد کی لہر کے نتیجے میں 165 فلسطینی شہری شہید ہوئے ہیں۔ اس تشدد کے نتیجے میں 26 اسرائیلی شہریوں، ایک امریکی، ایک ایریٹریائی اور ایک سوڈانی باشندے کی بھی ہلاکت ہوئی تھی۔
اسرائیلی حکام اپنے شہریوں پر حملوں میں ملوث فلسطینیوں کی لاشیں جلدی واپس نہیں کرتا ہے۔ اس اسرائیلی پالیسی کی وجہ سے فلسطینی شہریوں اور انسانی حقوق کے گروپ اس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
اسرائیل کی سیکیورٹی فورسز میں بھی اس پالیسی سے متعلق باہمی اختلاف پایا جاتا ہے۔ مقبوضہ غرب اردن کا کنٹرول سنبھالنے والی اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لاشوں کو زیادہ دیر قبضے میں رکھنا کشیدگی بڑھانے کا باعث بنتا ہے اس لئے اس نے کئی درجن فلسطینیوں کے جسد خاکی لواحقین کو واپس کئے ہیں۔
مگر دوسری جانب اسرائیل کے زیر انتظام مشرقی بیت المقدس میں سیکیورٹی کا انتظام اسرائیلی وزیر داخلہ گیلاد ایردان کے زیر انتظام ہے جنہوں نے ان دس فلسطینیوں کی لاشیں واپس دینے سے انکار کر دیا تھا۔