.

عرب وزرائے داخلہ نے حزب اللہ کی سرگرمیوں کی مذمت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متعدد عرب ممالک کے وزرائے داخلہ نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کی بعض عرب ملکوں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے دہشت گردی کی سرگرمیوں کی مذمت کردی ہے اور ان پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

تیونس کے دارالحکومت تیونس میں عرب وزرائے داخلہ کی کونسل کے تینتیسویں اجلاس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔اس میں دہشت گردی کی تمام شکلوں اور کارروائیوں بشمول نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف دہشت گردی کی مذمت کی گئی ہے۔اس میں انتہا پسند گروپوں اور فرقہ پرست ملیشیاؤں کی کارروائیوں کی بھی مذمت کی گئی ہے۔

ایک روز قبل ہی چھے عرب ریاستوں پر مشتمل خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے حزب اللہ کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دے دیا ہے۔جی سی سی کے سیکریٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے ایک بیان میں کہا کہ کونسل نے یہ فیصلہ حزب اللہ کی معاندانہ سرگرمیوں اور خلیج میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے ردعمل میں کیا ہے۔

سعودی عرب نے گذشتہ ماہ لبنان کے لیے تین ارب ڈالرز مالیت کی فوجی امداد معطل کردی تھی۔اس نے یہ فیصلہ بیروت حکومت کی جانب سے ایران کے دارالحکومت تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر مشتعل ایرانی مظاہرین کے حملے کی مذمت نہ کرنے پر کیا تھا۔سعودی عرب کا کہنا تھا کہ لبنان نے کسی بھی فورم پر ایرانی کارروائیوں کی مذمت نہیں کی تھی۔

سعودی عرب نے اپنے شہریوں کو لبنان جانے پر انتباہ بھی جاری کیا تھا۔اس فیصلے کے بعد خلیجی عرب ریاستوں کویت ،بحرین اور متحدہ عرب امارات نے حزب اللہ کے خلاف متعدد اقدامات کیے ہیں اور اپنے شہریوں پر لبنان جانے پر پابندی عاید کردی ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ کے جنگجو شام میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے ساتھ مل کر باغی گروپوں کے خلاف لڑرہے ہیں۔یمن میں حزب اللہ کے جنگجو حوثی باغیوں کی عسکری معاونت کررہے ہیں اورانھیں یمنی فوج سے لڑنے کے لیے اسلحہ اور جنگجو مہیا کررہے ہیں۔

سعودی عرب نے اگلے روز حزب اللہ سے تعلق کے الزام میں چارکمپنیوں اور تین لبنانیوں پر پابندیاں عاید کردی تھیں۔سعودی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ''سعودی مملکت تمام دستیاب وسائل اور ذرائع کے ساتھ نام نہاد حزب اللہ کی دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھے گی''۔