.

سعودی اتحاد کا یمن میں فوجی آپریشن اختتام کے قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں فوجی اتحاد کے ترجمان نے کہا ہے کہ یمن میں حوثی شیعہ باغیوں اور ان کے اتحادیوں کے خلاف بڑی فوجی کارروائیاں ختم ہونے کے قریب ہیں اور ان کے بعد اتحاد یمن میں استحکام کے لیے طویل المیعاد منصوبوں پر عمل پیرا ہو گا۔

بریگیڈیئر جنرل احمد العسیری نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن میں بڑی فوجی کارروائیاں آخری مراحل میں ہیں۔ان کے بعد دوسرا مرحلہ تعمیرِنو کا ہوگا اور یہ جلد شروع کیا جائے گا۔

انھوں نے واضح کیا کہ ''سعودی عرب اور اس کی قیادت میں اتحاد یمن کی قانونی حکومت کا ساتھ دیں گے اور اس کو ملک میں استحکام کی بحالی کے قابل ہونے تک مدد دیں گے''۔

ادھر مآرب میں یمن کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر علی محسن الاحمر نے کہا ہے کہ ان کی ٹیم عرب اتحاد کے ساتھ مل کر کام کرے گی اور وہ حوثی باغیوں کے ہاتھوں تباہ ہونے والے سرکاری اداروں کی تعمیرنو کرے گی۔

یمن کے تیسرے بڑے شہر تعز میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے کنٹرول کے بعد حالات معمول پر آنا شروع ہوگئے ہیں اور وہاں خاندانوں کی واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔شہر میں دکانیں اور بازار کھل گئے ہیں اور معمولاتِ زندگی بحال ہو رہے ہیں۔حوثی باغیوں نے اس شہر کا کئی ماہ تک محاصرہ کیے رکھا تھا اور اس دوران گولہ باری کرکے شہر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔