.

روس اور جرمنی ''متحدہ اور سیکولر'' شام پر متفق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس اور جرمنی نے ایک ایسے متحد اور سیکولر شام کی ضرورت پر زوردیا ہے جس میں تمام گروپوں کا کردار ہو اور وہ پُرامن طور پر مل کر رہ سکیں۔

یہ بات جرمن وزیر خارجہ فرینک والٹر اسٹینمائیر نے بدھ کے روز ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم نے ویانا میں اس بات (متحدہ شام) سے اتفاق کیا تھا،میونخ میں اس سمجھوتے کو تقویت دی گئی تھی۔ہمیں شام میں ایک متحدہ اور سیکولر ریاست کے قیام کے لیے ڈیل پر متفق ہونا چاہیے جس میں تمام نسلی گروپ پُرامن طور پر رہ سکیں''۔

انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اب شامی تنازعے پر بات چیت کے لیے وقت کو گنوانے کا کوئی موقع نہیں رہ گیا ہے۔انھوں نے تمام فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ مذاکرات کو تعطل کا شکار نہ ہونے دیں۔

اس موقع پر روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا کہ روس اور جرمنی نے جنیوا میں شام امن مذاکرات میں تمام گروپوں کو شریک کرنے کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ جرمنی کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھنا روس کی ترجیح ہے۔

اقوام متحدہ ایلچی کی دستاویز

درایں اثناء شامی حکومت کے مذاکراتی وفد کے سربراہ بشارالجعفری نے کہا ہے کہ انھیں شامی فریقوں کے درمیان امن مذاکرات کے آیندہ دور سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹافن ڈی مستورا کی جانب سے پیش کردہ دستاویز مل گئی ہے اور اب اس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

انھوں نے اسٹافن ڈی مستورا کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ''ہمیں ایک خط موصول ہوگیا ہے اور ہم دمشق واپسی کے بعد اس کا بغور اور عمیق نظری سے جائزہ لیں گے۔اس کے بعد آیندہ ماہ کے اوائل میں اس کا جواب دیں گے''۔

تاہم انھوں نے مذاکرات سے متعلق صحافیوں کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں دیا ہے اور کہا کہ مذاکرات کا یہ دور حکومت کے لیے پہلے ہی ختم ہوچکا تھا۔انھوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ مذاکرات کا آیندہ دور کب ہوگا۔البتہ یہ توقع کی جارہی ہے کہ یہ اپریل کے وائل میں ہوگا۔

بشارالجعفری نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ برسلز میں بم دھماکے کرنے والے بعض حملہ آور شام میں لڑ چکے تھے۔شام اور عراق میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے بیلجیئن دارالحکومت میں گذشتہ روز دو مقامات پر بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کی تھی۔ان بم دھماکوں میں 30 سے زیادہ افراد ہلاک اور کم سے کم 260 زخمی ہوئے ہیں۔