.

ترکی: گاؤں میں نوجوان شادی سے کیوں محروم ہیں؟

شادیاں نہ ہونے پر نوجوان احتجاج کرتے سڑکوں پرنکل آئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عام طور پر نواجوانوں کو بے روزگاری، بدامنی اور غربت کے خلاف احتجاج کرتے دیکھا جاتا ہے مگر #ترکی کا ایک گاؤں ایسا بھی ہے جہاں کے نوجوان شادیاں نہ ہونے پر سراپا احتجاج ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ ے مطابق جنوبی ترکی کی مرسین ریاست کے ’’اوزملو‘‘ قصبے میں رہنے والے نوجوان گذشتہ ایک عشرے سے شادیوں سے محروم ہیں۔ لڑکیوں کی جانب سے مقامی نوجوانوں کے ساتھ شادی سے انکار پر نوجوان غصے میں بھپرے ہوئے ہیں۔

مقامی خبر رساں اداروں کے مطابق ’’اوزملو‘‘ گاؤں میں نو سال پہلے ایک شادی ہوئی تھی جس کے بعد آج تک شادی کی جتنی بھی کوششیں کی گئی ہیں وہ ناکام رہی ہیں۔ شادیاں نہ ہونے کی بنیادی وجہ لڑکیوں کی جانب سے دیہاتی ماحول میں زندگی گذارنے سے انکار ہے۔

حال ہی میں ’’اوزملو‘‘ کی سڑکوں پر شادی سے محروم منچلوں کواحتجاج کرتے دیکھا گیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر صدر رجب طیب ایردوآن سمیت دیگر حکام کی توجہ بھی اس اہم مسئلے کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی گئی تھی۔

بعض کتبوں پر صدر ایردوآن سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ شادی سے محروم نوجوانوں کی شادیوں کا انتظام کرائیں۔ شادیاں ہونے کی صورت میں وہ پانچ پانچ بچے پیدا کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ پانچ بچوں کا وعدہ اس لیے کیا گیا ہے کیونکہ صدر نے کچھ عرصہ قبل ترک خاندانوں پر زور دیا تھا کہ وہ کم سے کم تین بچے ضرور پیدا کریں۔

ایک مقامی شہری مصطفیٰ باچبیلان کا کہنا ہے کہ گاؤں کی آبادی 233 افراد پر مشتمل ہے جس میں 25 افراد جن کی عمریں 25 اور 45 سال کے درمیان ہیں شادی سے محروم ہیں۔ گاؤں کی بیشتر لڑکیاں یا تو گاؤں سے باہر منتقل ہوچکی ہیں یا وہ مقامی نوجوانوں کے ساتھ شادی بیاہ پر راضی نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گاؤں کا مسئلہ روزگار یا مادی ضروریات نہیں بلکہ نوجوانوں کو اپنے گھر بسانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ نو سال قبل اس قصبے میں ایک شادی ہوئی تھی۔ اس وقت گاؤں کی آبادی 400 افراد پر مشتمل تھی۔ اب لوگ وہاں سے نقل مکانی کررہے۔