ترک خاتون اول کا "سلطنت عثمانیہ کے حرم" کو خراج تحسین!
ترکی کے قدامت پسند صدر رجب طیب آیردوان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے فرماں رواؤں کا حرم..جس کی خواتین مغرب میں بہت سوں کے نزدیک تخیلاتی کردار سمجھی جاتی ہیں.. درحقیقت "خواتین کو زندگی کے لیے تیار کرنے والی درسگاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔
ترک خاتون اول امینہ آیردوان کا یہ بیان خواتین کے عالمی دن (8 مارچ) کے ایک روز بعد سامنے آیا۔ انقرہ میں خطاب کرتے ہوئے امینہ رجب کا جو خواتین کی کئی انجمنوں کی نگراں بھی ہیں... کہنا تھا کہ "حرم کی خواتین شاہی خاندان کے افراد کے لیے اور خواتین کو زندگی کے لیے تیار کرنے کا اسکول تھا"۔
اپنے شوہر کی طرح امینہ بھی سلطنت عثمانیہ کی عظمت کے حوالے سے پسندیدگی کا اظہار کرتی ہیں.. وہ سلطنت جس کے ملبے پر موجودہ سیکولر ترک جمہوریہ قائم کی گئی۔
امینہ آیردوان کے مذکورہ بیان کے فورا بعد ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر تنقیدی تبصروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ استنبول کی ایک یونی ورسٹی پروفیسر اوزلم كورمولار نے "ٹوئیٹر" پر اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ "مراد سوم (سولھویں صدی کے ایک سلطان) کے زمانے میں کتابیں وہ واحد شے تھی جن کا حرم میں داخلہ ممنوع تھا"۔