ترکی : کرد باغیوں کے بم حملے میں 2 فوجی ہلاک ،50 زخمی
ترکی کے جنوب مشرق میں واقع قصبے حانی میں کرد باغیوں کے ایک کار بم حملے میں دو فوجی ہلاک اور کم سے کم پچاس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
ترک حکام کے مطابق حملہ آوروں نے بارود سے بھری ایک گاڑی کو فوجی اڈے اور سکیورٹی اہلکاروں کی رہائش گاہوں کے نزدیک دھماکے سے اڑایا ہے جس سے کئی مکانوں کی چھتیں گر گئی ہیں اور کھڑکیاں ٹوٹ گئی ہیں۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ زوردار دھماکے سے نزدیک واقع متعدد مکانوں ،دکانوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔سکیورٹی ذرائع نے بم دھماکے میں دو فوجیوں کی ہلاکت اور کم سے کم پچاس افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دھماکے میں ایک فوجی اور سینتالیس عام افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان میں سے چھے زخمی افراد فوجیوں کے رشتے دار ہیں۔
اس حملے کے بعد ترکی کی سکیورٹی فورسز نے حانی کے گردونواح میں علاحدگی پسند کرد باغیوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے،یہ قصبہ صوبائی دارالحکومت دیاربکر کے شمال میں واقع ہے۔ترک فوج نے شام ،عراق اور ایران کی سرحدوں کے نزدیک واقع چار جنوب مشرقی قصبوں میں سوموار کو جھڑپوں کے دوران تیس کرد جنگجوؤں کو ہلاک کردیا تھا۔ان قصبوں میں تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد سے کرفیو نافذ ہے۔
ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے بہ قول سکیورٹی فورسز نے جولائی 2015ء میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی جانب سے دوسالہ جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے قریباً ساڑھے پانچ ہزار کرد جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے۔اس عرصے کے دوران ملک کے جنوب مشرق میں واقع کرد اکثریتی علاقوں میں کرد باغیوں کے حملوں اور جھڑپوں میں 355 فوجی ،پولیس افسر اور دیہی محافظ ہلاک ہوئے ہیں۔