.

ٹی وی چینل شامی بچے کی قبر تلاش کا ذریعہ کیسے بنا؟

شامی پناہ گزین میاں بیوی اب بھی بچھڑنے والے تین بچوں کی تلاش میں سرگرداں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام میں جاری خوفناک خانہ جنگی سے جان بچا کر #جرمنی پہنچنے والے شامی میاں بیوی کو دو سال سے اپنے چار گم شدہ بچوں کی تلاش تھی۔ حال ہی میں انہیں اپنے ایک کم سن بچے کی قبر کا پتا چلا ہے جب کہ دیگر تین بچوں کی تلاش اب بھی جاری ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے غیرملکی خبر رساں اداروں کے حوالےسے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ شامی شہر ی 36 سالہ امجد اور اس کی 33 سالہ بیوی تہانی اپنے چار بچوں کے ہمراہ جرمنی کے لیے اگست 2014ء کو ایک کشتی میں سوار ہوئے مگر بحر متوسط میں ان کی کشتی کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ماں باپ اپنے چاروں بچوں سے بچھڑ گئے۔

جرمن اخبار ’’لاسٹامبا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق امجد اور تھانی نے حال ہی میں اپنے ایک بچے چار سالہ محمد کی قبر کا پتا چلا لیا ہے۔ اسے جزیرہ صقلیہ کے قریب اگرینٹی شہر کے ریبیرا قصبے قبرستان میں دفن کیا گیا تھا۔

شامی والدین کو اپنے لخت جگر کی تربت تک رسائی میں جرمنی کے ایک ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے پروگرام ’’کی لا فیسٹو؟‘‘[کسی نے دیکھا ہو؟] میں شرکت کے بعد اس وقت ملی جب مقامی علاقے کے پولیس اہلکاروں نے ٹی وی شو میں شرکت کرنے والے شامی والدین کو ان کے بچے کی قبر کی رہ نمائی کے ساتھ اس کے کپڑے، جوتے اور کچھ تصاویر بھی پیش کیں جن کی مدد سے انہوں نے اپنے بچے کو شناخت کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں اس بچے کی لاش سمندر کے کنارے سے ملی تھی جس کے بعد اسے ایک مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا تھا۔

پیشے کے اعتبار سے کار مکینک امجد اور اس کی اسکول ٹیچر اہلیہ تھانی جب جرمنی کے لیے بحری راستے سے عازم سفر ہوئے تو ان کی کشتی پر 250 پناہ گزین مسافر سوار تھے۔ ان کی کشتی حادثے کا شکار ہوئی اور وہ ایک دوسری کشتی کی مدد سے جان بچانے میں کامیاب ہوئے مگران کے چاروں بچے ڈوب جانے والی کشتی کے ساتھ غرق آب ہو گئے تھے۔

جرمن پولیس بچے محمد کے والدین کو اس کی ریبیرا قبرستان میں اس کی قبر پر لے گئے۔ گم شدہ بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دوسرے بچوں چھ سالہ رنا، دو سال عمر اور گیارہ ماہ کی اسراء کو بھی تلاش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کے زندہ بچ جانے کے لیے پرامید نہیں۔