اسرائیلی آبادکاری کے حل کے لیے آپشنز کھلے ہیں: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا نے فلسطین کی جانب سے اقوام متحدہ میں متعارف کی جانے والی مجوزہ رقرارداد کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کچھ کہنے سے انکار کردیا ہے۔البتہ اس نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی تعمیر کردہ یہودی بستیوں کے حوالے سے کسی آپشن کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔

امریکا مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے یہودی آبادکاروں کے لیے مکانوں کی تعمیر پر تنقید کرتا رہتا ہے اور انھیں امن کی راہ میں حائل سمجھتا ہے۔دوسری جانب اس نے اسرائیل پر اقوام متحدہ کا دباؤ بڑھانے کے لیے فلسطینی کوششوں کی ہمیشہ مزاحمت کی ہے اور وہ سلامتی کونسل میں اسرائیل مخالف کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرتا چلا آرہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے جمعرات کی شب اپنی معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ ''فلسطینیوں نے نیویارک میں ایک ابتدائی مسودہ غیر روایتی طور پر تقسیم کیا ہے۔میں اس غیررسمی قرارداد کے مسودے پر کوئی تبصرہ نہیں کررہا ہوں کیونکہ سلامتی کونسل میں باضابطہ طور پر کچھ متعارف کرایا گیا ہے اور نہ تقسیم کیا گیا ہے''۔

انھوں نے مزید کہا کہ ''ہم برسرزمین رجحانات سے متعلق بہت تشویش میں مبتلا ہیں۔ہم دو ریاستی حل کا احساس رکھتے ہیں۔ہم اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کے قیام کے لیے اپنے تمام آپشنز پر غور کریں گے''۔

اقوام متحدہ میں فلسطینی مشن نے اگلے روز اسرائیل کی یہودی آبادکاری کے خلاف ایک مجوزہ قرارداد کا مسودہ عرب ممالک میں تقسیم کیا تھا۔اس میں مقبوضہ فلسطینیوں علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے یہودی آبادکاروں کو بسانے کی مذمت کی گئی ہے اور اس اقدام کو امن کی راہ میں ایک رکاوٹ قراردیا گیا ہے۔

فلسطینی مشن کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل پہلے ہی متفقہ طور پر اس بات سے اتفاق کرچکی ہے کہ اسرائیلی بستیاں غیر قانونی ہیں۔اس لیے اس جائزے کی بنیاد پر کونسل کے رکن ممالک کی ذمے داری ہے کہ وہ یہودی بستیوں کے خلاف قرارداد منظور کریں۔

فلسطینیوں نے فروری 2011ء میں سلامتی کونسل میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف قرارداد کے حق میں چودہ ووٹوں کا حوالہ دیا ہے لیکن اس کو امریکا نے ویٹو کردیا تھا۔اس قرارداد میں اسرائیلی کی تعمیر کردہ یہودی بستیوں کو غیر قانونی قراردیا گیا تھا اور ان کی تعمیرات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ فلسطینی اس قرارداد کو کب سلامتی کونسل میں غور کے لیے پیش کریں گے اور اس پر رائے شماری کب ہو گی۔کونسل آیندہ سوموار سے مشرق وسطیٰ کے تنازعے پر غور کررہی ہے۔

بعض اطلاعات کے مطابق فلسطینی اس قرارداد پر صدر محمود عباس کی نیویارک میں موجودگی کے وقت سلامتی کونسل میں رائے شماری چاہتے ہیں۔فلسطینی صدر 22 اپریل کو اقوام متحدہ میں ایک تقریب میں شریک ہوں گے۔اس میں ایک سو تیس سے زیادہ ممالک تاریخی موسمیاتی سمجھوتے پر دستخط کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں