امریکا کا مزید 200 فوجی عراق بھیجنے کا اعلان
امریکا نے سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف جنگ میں عراق کی مدد کے لیے مزید دو سو سے زیادہ فوجی اور متعدد ہیلی کاپٹرز بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکی وزیر دفاع آشٹن کارٹر نے کہا ہے کہ یہ نئے امریکی فوج داعش کے خلاف جنگ میں اگلے محاذوں پر عراقی فورسز کی رہ نمائی کریں گے۔انھوں نے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب عراقی فورسز داعش کے زیر قبضہ ملک کے دوسرے بڑے شہر موصل کا کنٹرول واپس لینے کے لیے بڑے حملے کی تیاری کررہی ہیں۔
امریکی صدر براک اوباما نے مزید دو سو سترہ فوجی بھیجنے کا فیصلہ کمانڈروں اور عراقی لیڈروں کے ساتھ کئی ہفتے کی بات چیت کے بعد کیا ہے۔ان کی آمد کے بعد عراق میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد چار ہزار ستاسی ہوجائے گی۔اس وقت عراق میں تین ہزار آٹھ سو ستر فوجی موجود ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر فوجیوں کا تعلق امریکی آرمی کی اسپیشل فورسز سے ہوگا۔وہ اس سے پہلے عراقی فورسز کی رہ نمائی اور معاونت کرتے رہے ہیں۔باقی دستوں میں ٹرینر ،مشیروں کے لیے سکیورٹی اہلکار اور اپاچی ہیلی کاپٹروں کی دیکھ بھال کے لیے عملہ شامل ہوگا۔
امریکی مشیروں اور معاونین کی ہر ٹیم کوئی درجن بھر فوجیوں پرمشتمل ہوگی۔ وہ عراقی بریگیڈز اور بٹالینوں کے ساتھ محاذ جنگ پر اگلے مورچوں پر تعینات ہوں گے۔اس طرح انھیں مارٹر گولوں اور راکٹوں کے حملوں کا براہ راست سامنا ہوسکتا ہے۔ان کے ساتھ سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔