.

امریکا شام میں جنگ بندی اور مذاکرات جاری رکھنے کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں #جنیوا میں جاری بات چیت کے جلو میں #امریکا کا تازہ موقف سامنے آیا ہے جس میں امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن، دمشق بحران کے حل کے لیے جنگ بندی اور مذاکرات دونوں کو ایک ساتھ جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

#واشنگٹن میں ’العربیہ‘ نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینیر عہدیدار نے کہا کہ ہماری اولین ترجیح شام میں امن کا قیام ہے۔ اس مقصد کے لیے جنگ بندی ناگزیر ہے۔ جہاں تک شام کے بحران کے سیاسی حل کے لیے جاری مساعی کا تعلق ہے تو جنیوا میں جاری بات چیت اس کا بہتر حل ہے۔ شام میں جنگ بندی اور ساتھ ہی مذکرات کا تسلسل ہماری اولین ترجیح ہے۔ شام میں تمام متحارب فریقین کو ایک دوسرے پرحملے بند کرنا ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پرتشدد کارروائیاں روکنا شام اور پورے خطے کے مفاد میں ہے، بالخصوص شام کے زخم رسیدہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ان مزید لڑائی نہیں ہونی چاہیے۔ عارضی جنگ بندی معاہدے کے فوری بعد تمام فریقین کو ایک دوسرے پر حملے روک دینے چاہئیں۔

گرما گرم بات چیت

امریکی وزارت خارجہ کے عہدیدار نے ’’العربیہ‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سوموار کے روز امریکی صدر باراک اوباما اوران کے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے شام میں جاری پرتشدد واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ شامی فوج اور اپوزیشن کا جنگ بندی توڑ کر لڑائی شروع کرنا امن عمل کو تباہ کرنے کا موجب بنے گا۔

مبصرین کے خیال میں امریکا اور روس دونوں شام میں حالات کو پرسکون دیکھنا چاہتے ہیں۔ بالخصوص ایک ایسے وقت میں جب جنیوا میں امن بات چیت بھی جاری ہے۔ شام میں پرتشدد کارروائیوں کو بند ہونا چاہیے تاکہ جنیوا میں ہونے والے گرما گرم مذاکرات کا کوئی مثبت نتیجہ نکالا جاسکے۔ جنیوا مذاکرات کو سبوتاژ کرنا دہشت گرد تنظیم ’’داعش‘‘ کی سرکوبی کے لیے عالمی برادری کو متفقہ کارروائی سے روکنے کے مترادف ہوگا۔

خیال رہے کہ شام کے تنازع کے حوالے سے امریکا اور روس کے درمیان گہرے اختلافات پائے جاتےہیں۔ حال ہی میں امریکی صدرباراک اوباما نے ولادی میر پوتن سے ٹیلیفون پر بات چیت میں ان پر زور دیا کہ وہ بشارالاسد کوجنگ بندی کا پابند بنائیں۔ وائیٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ کا کہنا ہے کہ اوباما اور پوتن میں ہونے والے ٹیلیفونک مکالمے میں گرما گرم بات چیت ہوئی ہے۔

امریکی مطالبات

شام کے بحران کے حل کے حوالے سے امریکا کے مطالبات برمحل اور حقیقت پسندانہ ہیں۔ امریکی حکومت نے شام میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی روک تھام پر زور دیتے ہوئے بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جنیوا امن بات چیت کو بری طرح متاثر کررہی ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ روس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسد رجیم کو جنگ بندی کا پابند بنائے اور خلاف ورزیوں سے سختی سے روکے۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی فوج کی کارروائیاں نہ صرف جنگ بندی توڑنے کاموجب بنے گی بلکہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات پربھی ان کے گہرے اور منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کیربی کا کہنا ہے کہ ’جنیوا مذاکرات اور شام میں جنگ بندی‘ امریکا کی اولین ترجیح ہے۔ جب صحافیوں نے جون کیربی سے شام کے لیے عالمی امن مندوب اور شامی اپوزیشن کے درمیان ہونے والی ملاقات سے متعلق ایک سوال پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ ’’مجھے امید ہے کہ اس ملاقات کو ناکام نہیں سمجھا جائے گا‘‘۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شام میں جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے، بالخصوص اسد رجیم کو جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں سے ہرصورت میں روکنا ہوگا۔ اس باب میں امریکا اپنی جانب سے حتی الامکان مساعی جاری رکھے گا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ شام کے بحران کے حل کے سلسلے میں دو بڑی طاقتوں #روس اور امریکا کے درمیان جوہری اختلافات موجو دہیں۔ ذرائع کے مطابق حال ہی میں صدر ولادی میر #پوتن اور اوباما کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک بات چیت میں روس نے امریکا پر زور دیا تھا کہ وہ ترکی کو داعشی جنگجوؤں کی آمد ورفت روکنے کے لیے اپنی سرحد سیل کرنےکا پابند بنائے۔