لندن : نووارد الجزائری کا 10 روز میں 8 خواتین پر حملہ !
گزشتہ برس لندن پہنچنے والے (جنسی جنون کے مارے) الجزائری باشندے نے اپنی آمد کے کچھ ہی ماہ بعد وہ سب کچھ کر ڈالا جو اس سے پہلے کسی نے نہ کیا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ یہ "گینز" ریکارڈز کے حکام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش ہو تاکہ اس کا نام بھی عالمی شہرت یافتہ ریکارڈ بک میں شامل کرلیا جائے۔ الجزائری باشندے نے 10 روز کے اندر 8 خواتین کو جنسی حملے کا نشانہ بنایا جن کی عمریں 21 سے 39 برس کے درمیان تھیں۔
مہدی میدانی نامی الجزائری باشندے نے گزشتہ اکتوبر میں لندن کے جنوبی علاقے میں نوجوان لڑکیوں اور خواتین کے خلاف جنسی ہراسیت اور حملوں کے "کریش پروگرام" پر عمل درامد کیا۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے برطانوی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے واقعے کی رپورٹ نشر کی تھی تاہم اس وقت ملزم کے نام اور شہریت کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا۔ بعد ازاں گرفتاری اور عدالتی کارروائی کے بعد منگل کے روز اس پر فرد جرم عائد کی گئی۔ لہذا اب مجرم کی تصویر، نام اور شہریت کا اعلان کیا گیا ہے۔ مہدی میدانی کے خلاف فیصلہ آئندہ ماہ 26 مئی کو سنایا جائے گا۔ اس کو سلاخوں کے پیچھے 10 سال تک قید کی سزا ہوسکتی ہے اور اس کے بعد ملک سے بے دخل بھی کیا جاسکتا ہے۔
29 اكتوبر کو "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے سیکورٹی کیمرے کی ایک وڈیو نشر کی تھی جس میں میدانی نے پیچھے سے آ کر ایک لڑکی کو اچانک حیران کردیا تھا جو اس وقت اپنے گھر کا دروازہ کھول رہی تھی۔ اسی واقعے سے متعلق ایک دوسری وڈیو جو اب جاری کی گئی ہے اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ میدانی نے کس طرح 26 سالہ لڑکی کو پکڑ کر زیادتی کی کوشش کی۔ تاہم لڑکی اٹھ کھڑے ہو کر اسے روک دینے میں کامیاب ہوگئی۔ اس کے نتیجے میں میدانی شدید گھبراہٹ میں مبتلا ہو کر خوف کے مارے فرار ہوگیا۔
مذکورہ لڑکی نے اخبار کو واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے پولیس پر میدانی گو گرفتار کرنے کے لیے زور دیا تھا۔ اس پر "اسکاٹ لینڈ یارڈ" نے تلاش شروع کردی اور ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کرلیا۔ بعد ازاں تحقیقات سے واضح ہوگیا کہ یہ وڈیو میں نظر آنے والا شخص ہی ہے۔ میدانی نے اعتراف کیا کہ اس نے لندن کے وسطی علاقے لیمبیتھ میں دو خواتین پر جنسی حملے کیے تھے اور اس کے بعد تمام حملوں کا اقرار کرلیا۔
میدانی نے اعتراف کیا کہ اس نے لیمبیتھ کے علاقے برکسٹن میں بھی خواتین پر 5 حملے کیے تھے۔ تمام کارروائیاں رات کی تاریکی میں کی گئیں۔ منگل کے روز میدانی پر عائد الزامات کی سماعت ہوئی جس کے بعد میڈیا کو اس کے بارے میں تفصیلات جاری کر دی گئیں۔
تفصیلات کے مطابق مہدی میدانی گزشتہ برس موسم بہار میں الجزائر سے آئرلینڈ پہنچا تھا۔ اس کے چند ماہ بعد پھر وہ لندن آگیا۔ کچھ عرصے کے بعد 22 اکتوبر کو اس نے پہلی مرتبہ ایک لڑکی پر جنسی حملہ کیا اور پھر چند روز بعد دو مزید خواتین کو نشانہ بنایا اور پھر 5 دیگر لڑکیوں کو جنسی حملے اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان میں 4 لڑکیوں پر تو ایک ہی رات میں چند گھنٹوں کے دوران حملہ کیا۔
اس ایک رات نشانہ بننے والی لڑکیوں کی عمر 28 سے 32 برس تھی۔ یہ تفصیلات عدالت کی جانب سے جاری بیان میں بتائی گئی ہیں جو برطانی میڈیا میں نمایاں جگہ پا رہی ہیں۔ مہدی میدانی کی جانب سے حملوں کی ان کارروائیوں کے نتیجے میں مجرم کی گرفتاری تک جنوبی لندن کے علاقے میں شدید خوف و دہشت پھیل گئے تھے۔
-
مصر:جنسی حملوں میں ملوث 7 افراد کو سزائے عمر قید
مجرموں نے عوامی اجتماعات کے دوران خواتین پر جنسی حملے کیے تھے
بين الاقوامى -
شامی جنگجو یورپ میں کیمیائی حملے کرسکتے ہیں: روس
شام میں مسلح جنگجو گروپوں کی نگرانی کے لیے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش
بين الاقوامى -
کرد جنگجو یورپ میں بھی حملے کرسکتے ہیں: ایردوآن
ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے یورپ کو خبردار کیا ہے کہ وہ بھی کرد جنگجوؤں کے حملوں کا ...
بين الاقوامى