ایران نے کرکوک میں حزب اللہ کے 1000 جنگجو متعین کردیئے
ایران کی کردستان کے راستے شام میں دراندازی کی کوشش
ایران کی جانب سے عراق کے شہروں میں مبینہ عسکری مداخلت کےحوالے سے تازہ اطلاعات سامنے آئیں۔ عراقی ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شمالی عراق کی صلاح الدین گورنری کے طوزخومارتو شہر میں خوفناک جھڑپیں ہوئی ہیں جو اس شہر میں ایران کی فوجی مداخلت کا واضح ثبوت ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی کردستان کے ایک سینیر عہدیدار نے الزام عاید کیا ہے کہ ایران نے شمالی عراق کے کرکوک شہر میں حزب اللہ کے ایک ہزار کے قریب جنگجو تعینات کیے ہیں تاکہ تہران ’ہلال شیعہ‘ کو لبنان سے شام تک پھیلا دے۔
کرد عہدیدار حسین یازدان نے کہا کہ تہران نے لبنان کی وفادار شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے 1000 جنگجو کرد فورس البیشمرکہ سے لڑائی کے لیے کرکوک متعین کردیے ہیں۔ حزب اللہ کے جنگجو عراقی نجی ملیشیا الحشد الشعبی کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔
کرد عہدیدار نے حزب اللہ جنگجوؤں کی آمد کے بعد علاقے میں نئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے مسلح جنگجو کرکوک کے جنوب میں تازہ کے مقام پر تعینات ہیں اور ان کی کمان ایران کی بیرون ملک سرگرم ملیشیا ’القدس فورس‘ کے ایک عہدیدار آغائے اقبالی کررہے ہیں۔
یازدان کا مزید کہنا ہے کہ ایرانی حکومت نے ایک سے زاید مرتبہ کردستان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ شام سے متصل راستے ایرانی جنگجوؤں کے لیے کھول دے تاکہ وہ اپنے فوجی اور اسلحہ عراقی کردستان کے راستے دمشق پہنچا سکے تاہم کردستان کی حکومت نےایران کا یہ مطالبہ تسلیم نہیں کیا ہے۔
-
عراق: شکست کا صدمہ، چینی داعشی جنگجو کی خود کشی
عراق کے شہر الرمادی میں سیکیورٹی فورسزکی کارروائیوں سے مسلسل شکست کے نتیجے میں ...
مشرق وسطی -
داعش مخالف جنگ، عراق کی ہرممکن مدد کریں گے: سعودی عرب
عراق میں متعین سعودی عرب کے سفیر نے کہا ہے کہ ان کا ملک عراق کو ہر اعتبار سے ...
بين الاقوامى -
عراق: امریکی اور کرد افواج کا داعشی کمانڈر پر حملہ
امریکا کا کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق کا انکار
مشرق وسطی