کیا داعش کیمیائی ہتھیار تیار کر رہی ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

"تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار" نے منگل کے روز "انتہائی تشویش ناک" طور پر خبردار کیا ہے کہ داعش تنظیم نے ممکنہ طور پر کیمیائی ہتھیار تیار کر لیے ہیں جن کو اس نے واقعتا عراق اور شام میں استعمال کیا ہے۔

تنظیم کے سربراہ احمد ازومجو کا کہنا ہے کہ حقائق تلاش کرنے والی ٹیم کو اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ جنگ سے برباد شدہ دونوں ملکوں میں حملوں کے دوران مسٹرڈ گیس استعمال کی گئی۔

انہوں نے ایک غیرملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ "اگرچہ تحقیقاتی ٹیم اس کو داعش سے منسوب کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی، تاہم اس بات کے قوی شبہات ہیں کہ تنظیم نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں"۔

ہیگ میں "تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار" کے صدر دفتر میں تین روز جاری رہنے والی ایک کانفرنس کے ضمن میں احمد ازومجو نے مزید بتایا کہ اس طرح کے شبہات بھی ہیں کہ داعش نے یہ ہتھیار خود تیار کیے جو انتہائی تشویش ناک امر ہے۔

ازومجو کے مطابق یہ "بات ثابت کرتی ہے کہ (داعش) کے پاس مطلوبہ ٹکنالوجی اور جان کاری ہے اور ساتھ وہ ایسا مواد بھی رکھتی ہے جس کو کیمیائی ہتھیار بنانے میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی مرکزی انٹیلجنس کی ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر نے فروری میں ایک بیان میں کہا تھا کہ "داعش تنظیم کے عناصر چھوٹے پیمانے پر کلورین اور مسٹرڈ گیس تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں