.

ڈونلڈ ٹرمپ کا بہت جلد اسرائیل کا دورہ کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں دونوں بڑی جماعتوں کے ممکنہ امیدوار اسرائیل اور یہودی لابی کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش میں ہیں اور ری پبلکن پارٹی کے شعلہ بیان صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے بہت جلد اسرائیل کا دورہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

انھوں نے ایک اسرائیلی روزنامے حایوم میں بدھ کے روز چھپنے والے انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ ''میں بہت جلد اسرائیل جاؤں گا''۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ دسمبر میں اسرائیل کا دورہ کرنا تھا لیکن اس دوران انھوں نے تمام مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کی متنازعہ تجویز داغ دی تھی اور اس پر تندو تیز تنقید کے بعد انھوں نے اسرائیل جانے کا پروگرام ملتوی کردیا تھا۔

اس وقت انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ''میں نے اسرائیل کے لیے اپنا دورہ اور (اسرائیلی وزیراعظم بنیامین) نیتن یاہو سے ملاقات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اب میں امریکا کا صدر منتخب ہونے کے بعد یہ دورہ کروں گا''۔

انھوں نے اسرائیلی اخبار کے ساتھ اس تازہ انٹرویو میں امریکی صدر براک اوباما کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اور انھیں ایران کے ساتھ گذشتہ سال جولائی میں جوہری معاہدہ طے کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے کہا: ''اسرائیل کے خلاف موجود خطرہ صدر براک اوباما کی ایران کے بارے میں پالیسی اور جوہری معاہدے کی وجہ سے پہلے سے کہیں بڑھ گیا ہے''۔

ری پبلکن صدارتی امیدوار نے یہ بھی کہا کہ ''اسرائیل کے عوام اوباما کی وجہ سے بڑا خمیازہ بھگت چکے ہیں''۔واضح رہے کہ ماضی میں امریکا میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے سرکردہ امیدوار خارجہ پالیسی کے محاذ پر اپنا قد کاٹھ بڑھانے کے لیے اسرائیل کے دورے کرتے رہے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر ان کا اسرائیل کی جانب جھکاؤ نہیں ہوگا تو یہودی لابی ان کی مخالف ہوجائے گی اور ان کے لیے صدارتی انتخاب میں جیت بھی مشکل ہوجائے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن بھی اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔