.

حوثی باغیوں پر مخالفین کی پکڑ دھکڑ اور ان پر تشدد کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ رپورٹ میں یمن کے حوثی باغیوں پر اپنے مخالفین کو بندوق کی نوک پر گرفتار کرنے اور انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام عاید کیا ہے۔

ایمنسٹی کی بدھ کو جاری کردہ رپورٹ میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے پکڑ دھکڑ اور تشدد کے 60 کیسوں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔حوثیوں نے ان افراد کو یمنی شہروں سے ایسے ہی اُچک لیا تھا یا پھر جبراً غائب کردیا تھا۔تنظیم کے مطابق ان کی یہ کریک ڈاؤن کارروائیاں قبضے میں لیے گئے علاقوں میں اپنا کنٹرول مضبوط بنانے اور مخالفین کو شکست دینے کی مہم کا حصہ تھیں۔

رپورٹ میں دارالحکومت صنعا کے علاوہ دوسرے شہروں تعز ،اِب اور حدیدہ میں دسمبر 2014ء سے مارچ 2016ء کے درمیان پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیا گیا ہے۔اس کے مطابق حوثی باغیوں نے جن لوگوں کو اس دوران گرفتار کیا،ان میں ان کی مخالف سیاسی شخصیات ،انسانی حقوق کے کارکنان ،صحافی اور ماہرین تعلیم شامل تھے۔

حوثیوں نے اپنے جن مخالفین کو گرفتار کیا،ان میں سے بیشتر کو لمبے عرصے کے لیے جیلوں میں ڈال دیا،انھیں تشدد کا نشانہ بنایا یا ان کے خلاف ناروا سلوک کے دوسرے حربے آزمائے اور انھیں کسی وکیل یا ان کے خاندانوں سے بھی ملنے نہیں دیا۔

یمن کے انسانی حقوق کے ایک کارکن اعصام البطرا نے العربیہ کو بتایا ہے کہ ''حوثیوں نے تعز شہر کے محاصرے کے دوران میرے رکن پارلیمان والد عبدالحمید البطرا کو گرفتار کر لیا تھا اور مجھے بھی ان سے ملنے نہیں دیا گیا ہے''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ''قید کے دوران ان کے والد کی صحت بگڑ چکی ہے،انھیں فوری طور پر دل کی سرجری کی ضرورت ہے۔اپنے قریبی لوگوں کی اس طرح غیر منصفانہ انداز میں گرفتاری جبکہ وہ کسی شدید عارضے میں مبتلا ہوں ،بہت ہی پریشان کن ہوتی ہے''۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یمن کے وزیر اعظم احمد عبيد بن دغر نے حوثیوں کی جانب سے پیش کی گئی قومی اتحاد کی حکومت کی تشکیل کے لیے تجویز مسترد کردی ہے۔انھوں نے حوثیوں پر ملکی معیشت کو تباہی کے کنارے لاکھڑا کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

یمنی حکومت کے وفد نے منگل کے روز کویت میں اقوام متحدہ کی ثالثی میں حوثی باغیوں کے ساتھ جاری مذاکرات معطل کردیے تھے۔سرکاری وفد نے حوثی باغیوں کے دارالحکومت صنعا سمیت دوسرے علاقوں سے انخلاء کی صورت ہی میں مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا عندیہ دیا تھا۔

سرکاری وفد کے سربراہ اور وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی کا کہنا تھا کہ دارالحکومت صنعا پر قابض حوثی شیعہ ملیشیا نے مذاکرات کو مکمل طور پر سبوتاژ کردیا ہے اور وہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران بات چیت میں کیے گئے وعدوں سے پھر گئی ہے۔وہ قبل ازیں بھی حوثی باغیوں پر اپنے وعدے ایفاء نہ کرنے اور ان سے منحرف ہونے کے الزامات عاید کرچکے ہیں۔

درایں اثناء امیر کویت شیخ صباح الاحمد الصباح نے یمنی فریقوں پر زوردیا ہے کہ ''وہ مثبت نتائج کے حصول تک مذاکرات جاری رکھیں''۔انھوں نے یہ بات یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد سے کویت میں آج ملاقات میں کہی ہے۔

حوثی وفد اور ان کے اتحادی دوسرے ایشوز کے حل کے لیے آگے بڑھنے سے پہلے قومی اتفاق رائے سے عبوری حکومت کے قیام پر اصرار کررہے ہیں جبکہ یمنی حکومت کے وفد کا موقف ہے کہ عبد ربہ منصور ہادی ملک کے قانونی صدر ہیں اور انھیں ہٹانے کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔