.

سعودی کردار کے بغیر یمن کی صورت حال الم ناک ہوتی : مکین

سعودی عرب خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم کردار ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینیٹ کے سینیر رکن اور سابق شکست خوردہ صدارتی امیدوار جان مکین نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب نے یمن میں کردار ادا نہ کیا ہوتا تو یہ ملک بدترین صورت حال سے دوچار ہوجاتا اور وہاں طوائف الملوکی کا دور دورہ ہوتا۔

پان عرب اخبار الشرق الاوسط میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق سینیٹر جان مکین نے کہا ہے کہ سعودی عرب خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم کردار ہے۔انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ عالمی برادری نے انسانیت کے خلاف شامی صدر بشارالاسد کے جرائم کو نظر انداز کردیا ہے اور اس کے بجائے اس نے داعش پر اپنی توجہ مرکوز کررکھی ہے۔

ان کا یہ بیان سعودی عرب کی شوریٰ کونسل کے ڈپٹی چئیرمین ڈاکٹر محمد الجفری کے ساتھ ملاقات کے بعد شائع ہوا ہے۔ڈاکٹر محمد اس وقت امریکا کے دورے پر ہیں۔جان مکین نے، جو امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چئیرمین ہیں، اپنے بیان میں یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قانونی حکومت کے دفاع کے لیے سعودی عرب کے کردار کی اہمیت کا ذکر کیا ہے۔

واضح رہے کہ حوثی باغیوں نے ستمبر 2014ء میں دارالحکومت صنعا اور ملک کے دوسرے شہروں پر قبضہ کر لیا تھا اور صدر منصور ہادی بھاگ کر جنوبی شہر عدن میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے۔اس کے بعد وہ سعودی دارالحکومت الریاض چلے گئے تھے اور وہاں سے امور مملکت چلاتے رہے تھے۔سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے مارچ 2015ء میں حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کے خلاف فضائی مہم کا آغاز کیا تھا اور اس کے نتیجے میں وہ جنوبی شہروں سے پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔

سینیٹر جان مکین کے اس بیان سے ایک روز قبل ہی یمنی وزیر خارجہ عبدالملک آل مخلافی نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ صنعا میں ملک کے مرکزی بنک سے چار ارب ڈالرز غائب ہوگئے ہیں اور ملک کا دیوالہ نکلنے والا ہے۔ تاہم انھوں نے کسی فریق پر ان ڈالروں کوغائب کرنے کا الزام عاید نہیں کیا اور نہ مزید تفصیل بتائی ہے کہ یہ کیسے غائب ہوئے ہیں یا چُرا لیے گئے ہیں۔