مالدیپ نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر لیے
مالدیپ نے ایران کے ساتھ اپنے سفارت تعلقات منقطع کردینے کا اعلان کیا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے ٹوئیٹر پر سرکاری اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "ايران مشرق وسطی اور خلیج عربی میں امن و سلامتی کے حوالے سے ضرر رساں کردار ادا کر رہا ہے"۔
مالدیپ کی جانب سے یہ اقدام خلیجی ممالک اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کی روشنی میں سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب نے تہران اور مشہد میں سفارتی مشنوں پر حملوں اور عمارتوں کو نذرآتش کیے جانے کے بعد ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔
بعد ازاں بحرین، امارات، کویت اور قطر نے بھی سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کے طور پر سفارتی اقدامات کیے۔ امارات نے ایران میں اپنی سفارتی نمائندگی کو کم کرتے ہوئے ناظم الامور کی سطح تک کردیا جب کہ امارات میں ایرانی سفارت کاروں کی تعداد بھی کم کردی گئی۔
کویت نے ایران سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا اور اپنے یہاں ایرانی سفیر کو طلب کرکے تحریری احتجاجی یادداشت حوالے کی۔ قطر کی وزارت خارجہ نے بھی تہران سے اپنے سفیر کو واپس بلا لیا اور ایک احتجاجی یادداشت دوحہ میں ایرانی سفارت خانے کے حوالے کی۔
جہاں تک بحرین کا تعلق ہے تو اس نے "ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا" فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ"ایرانی سفارتی مشن کے تمام ارکان سے مطالبہ کرتا ہے کہ 48 گھنٹوں کے اندر مملکت بحرین سے چلے جائیں"۔ اس کے علاوہ بحرین نے "ایران میں اپنے سفارت مشن کو بند کرنے اور مشن کے تمام ارکان کو واپس بلا لینے " کا فیصلہ کیا۔
-
مالدیپ میں فوجی رہائش گاہوں کے لیے50 ملین ڈالر کی سعودی امداد
سعودی عرب کی حکومت نے جنوبی ایشیا کے مسلمان ملک مالدیپ کو فوجی بیرکوں اور فوجی ...
بين الاقوامى -
شہریوں کی داعش میں شمولیت پر مالدیپ حکومت پریشان
مالدیپ کی حکومت نے اپنے شہریوں کی شدت پسند گروپ دولت اسلامی ...
بين الاقوامى -
امل کلونی مالدیپ کے سابق صدر کی وکیل بن گئیں
'جزیرہ مالدیپ میں انسانی حقوق کی صورت حال پر اظہار تشویش'
بين الاقوامى -
مالدیپ: لاپتہ طیارے کے حوالے سے ایک اور پراسرار گواہی
آٹھ مارچ کی صبح، طیارے کی انتہائی نیچی پرواز دیکھی گئی
بين الاقوامى