حلب کی فتح تک شام میں فوجی مداخلت جاری رکھیں گے: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے ایک بار پھر زور دے کر کہا ہے کہ وہ شام کے شمالی شہر حلب کو باغیوں کے قبضے سے چھڑانے تک فوجی مداخلت کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی وزیردفاع حسن دھقان نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ شام کے شمالی شہر حلب کے وہ علاقے جہاں دہشت گردوں کا کنٹرول ہے کی آزادی مزاحمتی قوتوں کا مرکزی ہدف ہے۔ جب تک دہشت گردوں کے زیرقبضہ علاقے آزاد نہیں کرائے جاتے حلب میں جنگ جاری رہے گی اور ایران اپنے حامیوں کی مدد جاری رکھے گا۔

ایرانی وزیر دفاع نے شام اور عراق میں فوجی مداخلت کا جواز بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’السامی دنیا کا ایک حصہ عراق اور شام اس وقت دہشت گردوں کی زد میں ہے اور ہم وہاں کے عوام کو بچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ شام میں اور عراق میں ہم اپنے عسکری مشیران بھجواتے رہیں گے۔ ہم سے جو بھی ہوا شامی بھائیوں کی مدد کریں گے کیونکہ اسلام اور مسلم اکثریتی علاقے ہمارے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے معاون برائے عرب و افریقی امور حسین امیر عبداللھیان نے خبر رساں ایجنسی ’ارنا‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ شام اور عراق میں ان کی فوجوں کی روانگی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم شام اور عراق میں دہشت گردی کے خلاف اپنے حامیوں کی مدد نہ کرتے تو مغربی ایشیا کا کوئی خطہ محفوظ نہ رہتا۔

خیال رہے کہ ایرانی عہدیداروں کی جانب سے شام اور عراق میں فوجی مداخلت سے متعلق تازہ متنازع بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے پڑوسی ملکوں میں ایرانی مداخلت کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

درایں اثناء ایران کی قومی سلامتی کونسل کے چیئرمین علی شمخانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تہران نے دمشق اور بغداد کو بچانے کا فیصلہ اپنی جانب سے نہیں بلکہ یہ امر ربی تھا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے الہام الہٰی کے نتیجے میں شام اور عراق کو بچانے کا حکم دیا۔

تہران میں مالک الاشتر یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر شمخانی کا کہنا تھا کہ شام اور افغانستان میں مداخلت نے بڑی طاقتوں کو خوب سبق سکھایا ہے۔ اب وہ ایران کے خلاف بھی ایسی ہی جارحیت کی دھمکیاں دے رہے ہیں وہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کے نتائج سے آگاہ نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں