فرانسیسی ٹائیکون کے نیتن یاہو کو رقم دینے کے دعوے کی تحقیقات
اسرائیلی حکام ایک فرانسیسی ٹائیکون آرنود میمران کے اس دعوے کی تصدیق کے لیے تحقیقات کررہے ہیں جس میں انھوں نے کہا ہےکہ انھوں نے صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایک انتخابی مہم کے لیے دس لاکھ ڈالرز سے زیادہ رقم دی تھی۔
آرنود میمران نے فرانس میں ایک بیان حلفی میں کہا ہے کہ انھوں نے نیتن یاہو کو ایک انتخابی مہم کے لیے دس لاکھ یورو ( گیارہ لاکھ ڈالرز) دیے تھے۔اگر یہ دعویٰ ثابت ہوجاتا ہے تو رقم کی یہ وصولی اسرائیل کے انتخابی مہم کے لیے مالیاتی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی۔اسرائیلی اٹارنی جنرل کا دفتر اب اس معاملے کی تحقیقات کررہا ہے۔
مسٹر میمران فرانس میں کاربن ٹیکس فراڈ کیس کے مرکزی مشتبہ کردار ہیں۔ان کے علاوہ بعض دوسرے افراد پر الزام ہے کہ انھوں نے سیلز ٹیکس کی مد میں فراڈ کے ذریعے ریاست کو 28 کروڑ 30 لاکھ یورو کا نقصان پہنچایا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''نیتن یاہو کو جو بھی رقم دی گئی تھی ،وہ قانونی طور پر دی گئی تھی اور اس وقت وہ ایک عام شہری تھے اور یہ رقم ان کی کسی انتخابی مہم کا حصہ نہیں تھی''۔
بیان کے مطابق ''میمران کا نیتن یاہو کو انتخابی مہم کے لیے رقم عطیہ کرنے کا دعویٰ جھوٹ اور بالکل بے بنیاد ہے۔اس کے بجائے انھوں نے سنہ 2001ء میں جب نیتن یاہو کے پاس کوئی عہدہ نہیں تھا،چالیس ہزار ڈالرز کی رقم ایک پبلک سروس فنڈ کے لیے دی تھی اور یہ رقم بیرون ملک عوامی سفارتی سفروں کے لیے استعمال کی گئی تھی''۔
اس کے برعکس میمران نے سوموار کی شب اسرائیل کے چینل 10 ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھوں نے ایک بڑی رقم نیتن یاہو کے ذاتی بنک کھاتے میں منتقل کی تھی۔انھوں نے کہا کہ انھوں نے 2001ء میں نیتن یاہو کو دس لاکھ فرانسیسی فرانک (قریباً سترہ لاکھ یورو) دیے تھے۔
انھوں نے اپنے اس دعوے کے ثبوت میں کہا کہ ''میرے پاس اب بھی بنک اسٹیٹمنٹ موجود ہے۔رقم میرے ذاتی کھاتے یعنی آرنود میمران سے بنیامین نیتن یاہو کو ان کے ذاتی کھاتے میں منتقل کی گئی تھی۔وہ اس کو اپنے کھاتے میں دیکھ سکتے ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے جس کو میں اور وہ چھپا نہیں سکتے ہیں''۔