.

ایرانی فوج کی کرد، بلوچ جنگجوؤں سےجھڑپیں، متعدد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی فوج کی ملک کے مشرقی صوبہ سیستان بلوچستان میں بلوچ اور مغرب میں کرد عسکریت پسندوں کے ساتھ جھڑپوں میں ایک فوجی افسر سمیت کم سے کم 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گذشتہ روز ملک کے مشرقی صوبہ سیستان بلوچشتان کی سرحدی شہر خاش میں بلوچ عسکریت پسند گروپ کےساتھ جھڑپ میں داخلی سیکیورٹی کا ایک سینیر افسر ہلاک ہوگیا۔ جھڑپوں میں پانچ جنگجو بھی مارے گئے۔ اسی طرح کی ایک کارروائی ملک کی مغربی سرحد پر کرد گروپ ’’بیجک‘‘ کے ساتھ بھی ہوئی جس میں پانچ کرد جنگجوؤں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

بیجک جنگجوؤں کی ہلاکتیں

پاسدارن انقلاب کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے ملک کے مغرب میں عراق اور ایران کی سرحد پر واقع جبل قندیل میں کرد علاحدگی پسند گروپ ’’بیجک‘‘ کے ساتھ جھڑپیں ہوئی جن میں کم سے کم پانچ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاسداران انقلاب کی بری فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ہیڈ کواٹر’’حمزہ سید الشہداء‘‘ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ فورسز نے ایک کارروائی کے دوران شمال مغربی سرحد پر کر جنگجو گروپ کے پانچ عناصر کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پراس وقت کی گئی جب بیجک گروپ کے عناصر ایک پہاڑی علاقے سے گذر رہے تھے۔ انہیں گھات لگا کرنشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم سے کم پانچ جنگجو ہلاک ہوگئے۔ حکام نے جائے وقوعہ سے اسلحہ اور دستاویزات بھی برآمد کی ہیں۔

ایرانی حکام نے بیجک تنظیم پر چند ہفتے قبل پاسداران انقلاب کے دو اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔

خیال رہے کہ ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کی طرح مغربی صوبہ کردستان بھی شورش کا شکار ہے۔ سنی کرد اکثریتی صوبے میں متعدد علاحدگی پسند تنظیمیں سرگرم ہیں۔ ان تنظیموں اور ایرانی فوج کے درمیان جھڑپیں معمول کے مطابق جاری رہتی ہیں۔

حکومت کے خلاف لڑنے والے گروپوں کا دعویٰ ہے کہ ایرانی حکومت ان پر اپنا مسلکی تسلط قائم کرنے کے ساتھ ساتے ان کی بنیادی حقوق کا اسحصال کررہی ہے۔

بلوچستان کی شورش روکنے کے لیے امن پلان

درایں اثناء ایرانی وزیرداخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے پاکستان کی سرحد سے متصل صوبہ سیستان میں جاری شورش ختم کرنے کے لیے ایک نیا سیکیورٹی پلان ترتیب دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیستان[بلوچستان] میں بلوچ علاحدگی پسند گروپوں کی سرگرمیوں میں تیزی آنے پر تہران کو سخت تشویش لاحق ہے۔ وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ بلوچ علاحدگی پسند گروپ سرحد پار آمد ورفت اور اسمگلنگ میں بھی ملوث ہیں۔

حال ہی میں ایران کی بری فوج کے سربراہ نے اعتراف کیا تھا کہ ملک کا 60 فی صد علاقہ حکومت دشمن مسلح گروپوں کے نشانے پر ہے۔ ان کا اشارہ بلوچ اور کرد عسکریت پسند گروپوں کی جانب تھا جو عرصہ دراز سے اپنے حقوق کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔

بری فوج کے سربراہ جنرل باکبورکا کہنا تھا کہ ملک کی شمال مغربی سرحد اور سردشت کا علاقہ کردستان ورکز پارٹی سے وابستہ جنگجو گروپوں کے نشانے پر ہے۔ ان میں اہم ترین گروپ ’بیجک‘ ہے جس کے جنگجوعراق اور ایران کےدرمیان پہاڑی علاقوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ جنگجو سردشت، قاسم دشت، سومار، الشلامجہ اور جنوب میں اھواز تک پھیلے ہوئے ہیں۔