.

برطانیہ کا خروج خلیج کے لیے "عظیم" منفعتوں کا ذریعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"ایک قوم کے مصائب کسی دوسری قوم کے لیے فوائد ہوتے ہیں"۔ یہ محاورہ گزشتہ جمعرات کو ہونے والے ریفرنڈم کے نتائج کی روشنی میں یورپی یونین سے برطانیہ کے خروج کے متوقع فیصلے پر بڑی حد تک صادق آتا ہے۔ بالخصوص خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے حوالے سے جب کہ کونسل کے سکریٹری جنرل عبداللطیف الزیانی کچھ روز قبل کہہ چکے ہیں کہ خلیج کونسل یورپ کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے فائدہ مندہ ہونے کا جائزہ لے رہی ہے۔

خلیجی ممالک اور یورپ کے درمیان آزاد تجارت سے متعلق مذاکرات 2008ء (تقریبا 8 برسوں) سے منجمد ہیں۔

یورپ اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے درمیان تجارت کا حجم سالانہ 150 ارب یورو سے زیادہ ہے۔ ان میں یورپ کی برآمدات 100 ارب یورو اور خلیجی برآمدات 50 ارب یورو ہیں۔

اقتصادی مبصرین کے مطابق برطانیہ کا یورپی یونین سے خروج ، خلیجی ممالک کے لیے متعدد منفعتوں کا ذریعہ بن سکتا ہے جن کو "عظیم" قرار دیا جاسکتا ہے۔

پہلی منفعت یہ ہے کہ اس سے یورپی یونین اور برطانیہ دونوں کے ساتھ سرمایہ کاری اور مذاکرات کی شرائط بہتر ہوجائیں گی۔ ماضی میں خلیجی ریاستیں کسی ملک کے ساتھ مذاکرات نہیں کرسکتی تھیں۔ اسی وجہ سے یورو زون کے قیام سے قبل 1985 تک بات چیت ہمیشہ منفی نوعیت کی رہتی تھی۔ جو کچھ بھی ہو آخرکار سرمایہ کاری کو یورپی یونین کے اندر ہی جانا ہوتا تھا۔ لہذا خلیجی ریاستیں ہر ملک کے ساتھ علاحدہ طور پر دور اندیشی سے مذاکرات پر قدرت نہیں رکھتی تھیں۔

یورپی یونین 1988 سے خلیج تعاون کونسل کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے پر مذاکرات کررہی ہے جس کا مقصد دونوں بلاکوں کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو مضبوط کرنا ہے۔

یورپ اور برطانیہ کے درمیان اس "طلاق" سے یورپی یونین اور برطانیہ بھی ماضی کے مقابلے میں کمزور ہو جائیں گے۔ اس طرح یورپ دنیا کی طاقت ور ترین معیشتوں میں چوتھے نمبر پر اور برطانیہ پانچویں نمبر پر آجائے گا۔

دوسری منفعت یہ ہے کہ یورپ اور برطانیہ کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات شروع ہوسکیں گے۔ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے پاس آگے بڑھنے کے پہلے کسی بھی وقت سے کہیں بہتر مواقع ہاتھ آئیں گے۔ بالخصوص جب کہ برطانیہ کو اُس خلاء کو پُر کرنے کی ضرورت ہوگی جو یورپی یونین سے نکلنے کی صورت میں پیدا ہوجائے گا۔

تیسری منفعت یہ ہے کہ مذکورہ علاحدگی سے پیدا ہونے والی کمزوری کے نتیجے میں یورو اور پاؤنڈ اسٹرلنگ دونوں کی قیمتیں ایک ساتھ کم ہوں گی۔

چوتھی منفعت یہ کہ اس کے نتیجے میں خلیجی ممالک میں یورپ اور برطانیہ سے درآمدات کی لاگت کم ہوجائے گی اور اس سے خلیجی ممالک میں افراطِ زر کی سطح بھی کم ہوجائے گی۔

پانچویں منفعت یہ ہے کہ یورپی یونین سے برطانیہ کے خارج ہونے کے نتیجے خلیجی ممالک کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔ توقع ہے کہ جائیداد کی قیمتیں 20% تک کم ہوں گی۔ برطانیہ سے بہت سی کمپنیاں نکل جائیں گی جس کے نتیجے میں خلیجی حکومتوں اور سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے عظیم مواقع پیدا ہوں گے۔ بالخصوص جب کہ یورپ اور برطانیہ دونوں ہی خلیجی سرمایہ کار کے لیے بہتر موقع فراہم کرنے کے سلسلے میں مقابلہ کریں گے۔

دوسری جانب اقتصادی مبصرین کے نزدیک اثاثوں کی قیمتیں گرنے پر لندن میں بعض خلیجی ممالک کی سرمایہ کاری بھی متاثر ہوگی تاہم یہ خسارے اُن عظیم منفعتوں کے سامنے بہت چھوٹے شمار کیے جارہے ہیں جو ان ممالک کو مستقبل میں حاصل ہوں گی۔