.

یمنی حکومت عالمی ایلچی کی یقین دہانی کے بعد امن مذاکرات میں شرکت پر آمادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی حکومت کا وفد اقوام متحدہ کے ایلچی اسماعیل ولد شیخ احمد کی جانب سے یقین دہانی کے بعد کویت میں حوثی باغیوں کے ساتھ پندرہ روز کے وقفے کے بعد امن مذاکرات کی بحالی پر آمادہ ہو گیا ہے۔

حکومتی وفد کے سربراہ اور وزیرخارجہ عبدالملک المخلافی نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ''حکومت کو اس کے مطالبات کے جواب میں تحریری جواب موصول ہوگیا ہے اور یہ سیاسی قیادت کے لیے وفد کو کویت واپس بھیجنے کا فیصلہ کرنے کے لیے کافی ہے''۔

انھوں نے ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ''اقوام متحدہ کے ایلچی سے یہ طے پایا ہے کہ کویت مذاکرات دو ہفتے سے زیادہ دیر جاری نہیں رہیں گے ،اس دوران متعلقہ امور پر ہی بات چیت کی جائے گی اور ان کے علاوہ کسی اور ایشو پر کوئی بات نہیں کی جائے گی''۔

عبدالملک المخلافی کا کہنا ہے کہ ان کا عالمی ایلچی سے ایک واضح نظام الاوقات پر اتفاق ہوگیا ہے۔یہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور ان کے اتحادیوں کے صنعا اور دوسرے علاقوں سے انخلاء ،ان کے ہتھیار پھینکنے ،ریاستی اداروں کی واپسی ،قیدیوں کی رہائی اور شہروں کے محاصرے کے خاتمے تک محدود ہے''۔

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ''سعودی دارالحکومت الریاض میں اسماعیل ولد شیخ احمد کے ساتھ دو روز تک مذاکرات کے بعد یہ سمجھوتا طے پایا ہے''۔امن مذاکرات میں شرکت کے لیے حوثیوں اور سابق صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کا وفد جمعہ کو کویت پہنچا تھا اور یمنی حکومت کے وفد کی ہفتے کی شب کویت آمد ہوئی تھی۔

کویت میں حوثی باغیوں اور صدر منصور ہادی کی حکومت کے درمیان عیدالفطر سے قبل امن مذاکرات دو ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہے تھے۔اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی ثالثی اور نگرانی میں یہ امن مذاکرات 21 اپریل کو شروع ہوئے تھے۔ لیکن ان میں بحران کے پائیدار حل کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی تھی اور صرف فریقین کے درمیان قیدیوں کا ہی تبادلہ ہوا تھا۔

ان مذاکرات میں یمنی حکومت کا وفد گذشتہ سال اپریل میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔اس میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا سے کہا گیا تھا کہ وہ ہتھیار ڈال دے اور دارالحکومت صنعا سمیت اپنے زیر قبضہ تمام علاقوں کو خالی کردے۔

حوثی باغی اس کے جواب میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی حکومت کی جگہ ایک نئی حکومت کے قیام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ یمنی صدر نے اتوار کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر اقوام متحدہ کے ایلچی نے قومی اتحاد کی حکومت کے قیام کے لیے اپنے وضع کردہ نقشہ راہ پر اصرار جاری رکھا تو ان کی حکومت کویت مذاکرات کا بائیکاٹ کردے گی۔