.

ایردوآن کے حفاظتی عملے میں شامل سیکڑوں ترک اہلکار گرفتار

بیرون ملک فرار کا خدشہ، ترکی میں 10 ہزار افراد کے گرین پاسپورٹ منسوخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک حکام نے صدر رجب طیب ایردوآن کے حفاظتی دستے میں شامل کم سے کم 283 اہلکاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔

ایک ترک عہدیدار نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ ہفتے حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش ناکام بنائے جانے کے بعد صدر ایردوآن کی حفاظت پر مامور دسیوں اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا۔

خبر رساں ایجنسی’اے ایف پی‘ کے مطابق گرفتار کیے گئے صدارتی سیکیورٹی عملے کے اہلکاروں کا تعلق صدارتی محل کی حفاظت کے ذمہ دار فوجی بریگیڈ میں شامل ہیں۔ اس بریگیڈ کے 2500 اہلکار انقرہ میں صدارتی محل کی حفاظت پر مامور ہیں۔

ترکی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ’سی این این‘ نیوز چینل نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حکام نے 300 سیکیورٹی اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے۔ حراست میں لیے گئے سیکیورٹی اہلکار انقرہ میں رکھے گئے ہیں۔

رپورٹ میں وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مشکوک افراد کے بیرون ملک فرار کی کوشش ناکام بنانے کے لیے 10 ہزار 856 افراد کے پاسپورٹ منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ ان میں 10 ہزار گرین پاسپورٹ بھی شامل ہیں۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے جن لوگوں کے پاسپورٹ منسوخ کیے گئے ہیں ان میں سے بیشتر گرفتار ہیں یا مفرور ہیں۔

جن لوگوں کے پاسپورٹ منسوخ کیے گئے ہیں ان میں کئی سابق و آئی پی شخصیات، سرکاری ملازمین، سابق ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں۔ حکومتی اہلکاروں اور کھلاڑیوں کو بھی نئے پاسپورٹ جاری کیے جا رہے ہیں۔

قبل ازیں ترک صدر نے اعتراف کیا تھا کہ ان کے خلاف فوجی بغاوت کی سازش ناکام بنائے جانے کے بعد 10 ہزار 410 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں 4060 بدستور قید ہیں جن میں فوج کے 100 سینیر افسر بھی شامل ہیں۔