.

ایران:موت کے سزا یافتہ نوجوان مبلغ کی جان بخشی کی مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایران میں اہل سنت والجماعت مسلک سے تعلق رکھنے والے سزائے موت کے ایک سزا یافتہ نوجوان عالم دین کی جان بچانے کے لیے ایک نئی مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کے تحت ایرانی حکومت اور عدلیہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ زیرحراست سزائے موت کے قیدی کرد سنی رہ نما شہرام احمدی کی سزا معاف کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر رہا کریں۔

خیال رہے کہ شہرام احمدی پر ایرانی خفیہ اداروں نے ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور ایک سلفی تنظیم کے ساتھ خفیہ روابط رکھنے کے الزامات کے تحت سنہ 2012ء میں عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔ ایران کی ایک انقلاب عدالت نے اہل سنت مسلک کے نوجوان عالم دین کو قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے اور ایرانی رجیم کی مخالفت میں پروپیگنڈہ کرنے کے الزامات میں سزائے موت سنائی تھی۔

دوسری جانب علامہ شہرام احمدی نے ایرانی عدالت میں اپنےاوپر عاید الزامات کی صحت سے صاف انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ کی تمام تر سرگرمیاں ایرانی آئین اور قانون کے عین مطابق، پرامن اور اعلانیہ تھیں۔ انہوں نے کسی سلفی تنظیم کے ساتھ خفیہ مراسم قائم نہیں کیے اور نہ ہی ایران کی سلامتی کے خلاف کوئی قدم اٹھایا ہے۔

سنہ 2012ء میں ایران کی ایک مقامی انقلاب عدالت نے شہرام احمدی کے مقدمہ کی چند منٹ سماعت کے بعد انہیں سزائے موت سنا دی تھی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے شہرام احمدی کو سنائی گئی سزا کو غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں ایران کی سپریم جوڈیشل اتھارٹی کی جانب سے بھی شہرام احمدی کو انقلاب عدالت کی طرف سے سنائی گئی سزا کی توثیق کی گئی تھی۔

شہرام احمدی کو اپریل سنہ 2009ء کو کرد اکثریتی شہر سندج میں اپنی مسجد سے واپسی پر فائرنگ کرنے کے بعد حراست میں لے لیا گیا تھا۔ فائرنگ کے ان کی کمر میں گولیاں لگیں جس کے نتیجے میں وہ زخمی بھی ہوئے تھے۔ انہیں زخمی حالت میں اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کی آنتوں اور ایک پھپھڑے کو نکال دیا تھا۔

ایرانی تفتیش کاروں نے انہیں 40 ماہ تک قید تنہائی میں ڈالے رکھا اور انہیں سلفی تنظیم کے لیے مخبری کرنے، سنندج کے ایک سنی عالم دین اور ایک شیعہ مذہبی رہ نما کے قتل کے علاوہ ایرانی رجیم مخالف سیاسی لٹریچر تیار کرنے اورانہیں لوگوں میں پھیلانے جیسے الزامات عاید کیے تھے تھے۔ ان کے ایک بھائی حامد کو ایرانی حکام نے مارچ 2015ء کو اسی طرح کے نام نہاد الزامات کے تحت 17 سال کی عمر میں پھانسی دے دی تھی۔

حال ہی میں ایران میں شہرام احمدی کی جان بچانے کے لی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک نئی مہم شروع کی ہے۔ انسانی حقوق کے ذرائع کا کہنا ہے کہ شہرام احمدی کی جان بخشی کی مہم میں ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے عالمی ادارے بھی پیش پیش ہیں۔ ان کی جانب سے ایرانی حکام کو بتایا گیا ہے کہ شہرام اور ان کے ساتھ قید کیے گئے سزائے موت کے دیگر قیدیوں کا ان پرعاید الزامات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا جرم صرف اتنا ہے کہ وہ کردستان کی ایک مسجد میں اہل سنت والجماعت مسلک کی تعلیمات کے مطابق تبلیغ کرتے تھے۔ ان پر ایران نواز سنی عالم دین کو قتل کرنے کا الزام بھی درست ثابت نہیں ہوا ہے۔

شہرام احمدی نے بھی اقوام متحدہ کے مندوب برائے انسانی حقوق کو ایک مکتوب ارسال کیا تھا جس میں انہوں نے اپنے کیس کی تفصیلات کے ساتھ اپنی بھائی کی سزائے موت پر والدہ کی پریشان کن حالت کے بارے میں بھی تفصیلی احوال بیان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھائی کی سزائے موت پر والدہ دکھ اور غم سے نڈھال تھیں۔ میری بیوی بچے بھی مسلسل میری رہائی کے لیے فریادیں کررہے ہیں۔ اس لیے عالمی ادارہ میری رہائی کےلیے حکومت پر دباؤ ڈالے۔

سنہ 2014ء کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی شہرام احمدی کے کیس پر ایران سے احتجاج کرتے ہوئے تہران کی مسلکی بنیادوں پر مخالفین کو موت کی سزائیں دینے کی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

شہرام احمدی کے ایک بھائی حامد احمدی کو سنہ 2015ء میں 18 سال سے کم عمر ہونے کے باوجود پھانسی دے دی گئی تھی۔ شہرام کی والدہ کی جانب سے اصلاح پسند ذرائع ابلاغ کے توسط سے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ علی خامنہ ای کے نام ایک مکتوب شائع کرایا گیاجس میں ان سے شہرام کی سزا معاف کرنے کی ہمدردانہ اپیل کی گئی تھی مگر سپریم لیڈر کی طرف سے اس اپیل کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔

قیدیوں پر تشدد

ایران میں سیاسی قیدیوں کے دفاع کے لیے سرگرم مہم کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں سرکاری جیلوں میں ڈالے گئے شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی جیلوں میں قیدیوں کو غیر انسانی سلوک کا سامنا ہے۔ ان پر تشدد کے بدترین حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قیدیوں سے راز اگلوانے کے بہانے میں ان کے اعضاءتناسل پر بجلی کےجھٹکے لگائے جاتے ہیں۔ انہیں دیواروں کے ساتھ الٹا لٹکایا جاتا اور وحشیانہ طریقے سے مارا پیٹا جاتا ہے۔ آگ سے جلایا اور جلتی اشیاء سے داغا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ کئی کئی روز تک بھوکا پیاسا رکھا جاتا ہے۔ اہل سنت مسلک کے اکابرکو ان کے سامنے گالیاں دی جاتی ہیں اور قیدیوں کو ہراساں کرنے اور انہیں دباؤ میں رکھنے کے لیے ان کے اہل خانہ کو گرفتار کرنے یا اٹھا کر غائب کردینے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

اہل سنت مسلک کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خلاف امتیازی سلوک پر احتجاج کرتے ہیں تو انہیں ملک دشمنی کی سازشوں کے الزامات کے تحت دھر لیا جاتا ہے۔ایرانی حکام انہیں اپنے مذہب اور مسلک کے مطابق شعائر اسلام اور عبادت کی ادائی سے روکتے ہیں۔ مذہبی شدت پسندی اور مسلکی تعصب کا عالم یہ ہے کہ دارالحکومت تہران میں ایک مسجد تک بنانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

اہل سنت مسلک کے 200 قید

ایران کے مختلف حراستی مراکز میں پابند سلاسل اہل سنت والجماعت مسلک کے قیدیوں کی تعداد 200 بیان کی جاتی ہے۔ ان میں علماء، دینی مدارس کے طلباء اور عام شہری شامل ہیں۔ سزائے موت کے بیشتر سنی قیدیوں کو مغربی تہران میں کرج شہر کی ’’رجائی شہر‘ جیل میں ڈالا گیا ہے۔ ان تمام قیدیوں پر ایران کی قومی سلامتی کے خلاف سازش کرنے اور ایرانی انقلاب کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

رجائی شہر جیل کےعلاوہ پھانسی کے سزا یافتہ اسیران کو تہران، سندج، ہمدان، کرمان شاہ، ارومیہ، سقز، مہا باد اور مریوان جیلوں میں قید کیا گیا ہے۔ ان تمام جیلوں میں پابند سلاسل اہل سنت مسلک کے قیدیوں کو بنیادی انسانی حقوق تک میسر نہیں ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق مسلکی بنیادوں پر حراست میں لیے گئے شہریوں کو عبادت اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کی اجازت بھی حاصل نہیں ہے۔