فرانس میں 20 مساجد بند، نفرت پھیلانے والے 80 آئمہ بے دخل
مساجد کے آئمہ کی سیکولر پروگرام کے تحت تربیت کرنے کا اعلان
فرانسی حکومت نے انسداد شدت پسند کے پرگرام کے تحت اب تک 20 مساجد کو تالے لگانے اور کم سے کم 80 آئمہ مساجد اور مذہبی رہ نماؤں کو ملک سے بے دخل کرنے کی تصدیق کی ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فرانسیسی وزیرداخلہ برنا کازنوف نے گذشتہ روز ایک بیان میں بتایا کہ ان کا ملک آئمہ مساجد کی سیکولرنظام کی روشنی میں مخصوص تربیتی پروگرام شروع کرانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ برس نومبر کے بعد سے ملک میں نفرت پھیلانے والے مراکز اور اداروں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ اس دوران نفرت پھیلانے والی 20 مساجد کو بند کرنے کے ساتھ ملک میں انتہا پسندی کو فروغ دینے اور نفرت پھیلانے والے 80 مبلغین کو ملک سے بے دخل کردیا گیا ہے۔
قبل ازیں فرانسیسی وزیرداخلہ نے فرانس میں اسلامی کونسل کے مندوبین کے ایک اجلاس میں بھی شرکت کی۔ مسلمان مندوبین سے ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر کازنوف نے کہا کہ فرانس میں جید علماء کرام کی نگرانی میں مساجد کے آئمہ کرام کی تربیت کا ایک پروگرام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس پروگرام میں آئمہ کو اسلام کی اعتدال پسندانہ تعلیمات سے روشناس کیا جائے گا۔
-
مصر: الازہر نے مساجد میں تحریر شدہ خطبہ مسترد کر دیا
مصر میں الازہر کے سینئر علماء کی کمیٹی نے متفقہ طور پر " تحریر شدہ خطبے کے اس ...
مشرق وسطی -
سعودیہ: نابیناؤں کی مساجد تک رسائی کے لیے خصوصی ٹریک
البریدہ کی 40 مساجد اور نابینا افراد کے گھروں کے درمیان ٹریک کا منصوبہ
مشرق وسطی -
انڈونیشیا میں موبائل مساجد متعارف
گھروں اور دفاتر سے مساجد کی دوری کا انوکھا حل
ایڈیٹر کی پسند