.

یمنی فورسز کا زنجبار اور جعار پر قبضہ ،القاعدہ کے جنگجو پسپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی حکومت کے تحت فورسز سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی فضائیہ کی مدد سے جنوبی صوبے ابین کے دارالحکومت زنجبار میں داخل ہوگئی ہیں اور داعش کے جنگجو وہاں سے پسپا ہوگئے ہیں۔

یمنی فوج کے کمانڈر عبداللہ الفاضلی نے بتایا ہے کہ ''زنجبار کا کنٹرول القاعدہ سے واپس لے لیا گیا ہے اور اس تنظیم کے بیشتر جنگجو فرار ہو گئے ہیں''۔انھوں نے مزید بتایا کہ شہر کے شمالی حصوں میں ابھی لڑائی جاری ہے اور وہاں جہادی موجود ہیں۔یمنی فورسز نے ابین میں واقع ایک اور شہر جعار بھی دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اور وہاں سے بھی القاعدہ کے جنگجوؤں کو نکال باہر کیا ہے۔

علاقے کے مکینوں اور فوجی ذرائع نے بتایا کہ زنجبار کو واپس لینے کی کارروائی میں ہزاروں فوجی شریک ہیں۔انھوں نے مقامی حکومت کے ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ کر لیا ہے۔زنجبار میں اس وقت قریباً ایک لاکھ افراد رہ رہے ہیں۔مکینوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ القاعدہ کے فرار ہوتے جنگجوؤں کی فوج کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں لیکن انھوں نے ہلاکتوں کی کوئی تفصیل نہیں بتائی۔

یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز نے مارچ میں ملک کے جنوبی صوبوں میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کی فضائی مدد سے ایک بڑی کارروائی شروع کی تھی اور اب تک انھوں نے بہت سے شہروں اور دیہات پر قبضہ کر لیا ہے۔انھوں نے قبل ازیں زنجبار پر بھی قبضہ کر لیا تھا لیکن انھیں چند روز کے بعد ہی القاعدہ کے جنگجوؤں کے جوابی حملے کے بعد پسپا ہونا پڑا تھا۔

یمنی حکام نے گذشتہ دوماہ کے دوران سیکڑوں فوجیوں کو پڑوس میں واقع صوبے عدن میں تربیت دی ہے۔انھوں نے ہفتے کے روز ابین کے صوبائی دارالحکومت پر یلغار کا آغاز کیا تھا اور ایک ہی دن میں بہت سی سرکاری عمارتوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

فوجی ذرائع کے مطابق سعودی اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے سرکاری فوج کو فضائی کور مہیا کیا تھا اور القاعدہ کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ہفتے کی شب ساحلی قصبے شقرہ میں فضائی حملے میں چار جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔درایں اثناء ابین ہی میں ایک خودکش بمبار نے اپنی بارود سے بھری کار کو ایک فوجی قافلے سے ٹکرا دیا ہے جس سے تین فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

یادرہے کہ یمنی صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فوج نے اپریل میں ساحلی شہر المکلا کو لڑائی کے بعد القاعدہ کے جنگجوؤں سے خالی کرالیا تھا اور اس شہر سے پسپائی کے بعد القاعدہ روزانہ اوسطاً بیس لاکھ ڈالرز کی آمدن سے محروم ہوگئی تھی جو اس کو تیل کی اسمگلنگ اور بندرگاہ سے محصولات کی مد میں حاصل ہورہی تھی۔

یمن میں القاعدہ کے جنگجوؤں نے اپریل 2015ء میں سرکاری فورسز کی پسپائی کے بعد المکلا پر قبضہ کیا تھا۔ ستمبر2014ء میں حوثی شیعہ باغیوں کے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد القاعدہ کے جنگجو کھل کر سامنے آگئے تھے اور انھوں نے المکلا اور بعض دوسرے جنوبی اور جنوب مشرقی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا لیکن بعد میں انھیں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے میزائل حملوں اور سعودی اتحاد کے فضائی حملوں میں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے اور وہ اپنے زیر قبضہ بہت سے علاقوں سے پسپا ہوگئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا یمن میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی شاخ کو سب سے خطرناک جنگجو گروپ خیال کرتا ہے۔اس گروپ نے سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے دوران فائدہ اٹھایا تھا اور ملک کے مشرقی اور جنوب مشرقی صوبوں میں اپنے قدم جما لیے تھے۔