ننھے شامی عمران کے خون کا ایرانی میڈیا میں تمسخر!

بشارالاسد اور اس کے حامیوں کی بے حسی ختم نہ ہوسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

حال ہی میں شام کے شہر حلب کی القاطرجی کالونی میں مکان کے ملبے تلے سے زخمی حالت میں نکالے گئے ایک شامی بچے عمران کی معصوم خون آلود تصویر نے پتھر دل انسانوں کو بھی پگھلا دیا مگر ڈھٹائی کا شکار شام میں بشار الاسد اور ان کے حامی ایرانیوں پر اس ننھے کے المناک واقعے نے بھی کوئی اثر نہیں ہوا۔ بلکہ اسدی گماشتوں اور ان کے ایرانی آقاؤں کے تکبر میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دنیا بھر میں تہلکہ مچا دینے والی عمران السوری کی تصویر پر ایرانی ذرائع ابلاغ نے حسب معمول طنز ومذاق شروع کر رکھا ہے۔ ایرانی سوشل میڈیا اور الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا پر بھی عمران کی تصویر کو وجہ نزاع بنانے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔

عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ایرانی ٹی وی "العالم" نے ’’شامی بچے عمران کے ڈرامے کے درپردہ مقاصد‘‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ میں بچے کے چہرے سے بہتے خون اور اس کے گرد میں اٹے جسم کا تمسخر اڑایا گیا۔

ٹی وی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ عمران السوری نامہ بچہ حقیقت میں زخمی نہیں ہے۔ وہ محض ایک علامتی تصویر ہے جس کا مقصد شام میں صدر بشار الاسد اور ان کی فوج کو بدنام کرنا ہے۔ ٹی وی رپورٹ میں عمران کی حالت زار کا مذاق اڑتے ہوئے بار بار اسے ’ڈرامہ‘ اور من گھڑت کہانی قرار دیا گیا۔

بشار الاسد کے حامی سوشل میڈیا پر سرگرم عناصر نے بھی عمران السوری کی تصویر کا مذاق اڑایا۔ اسدی گماشتوں کا کہنا ہے کہ عمران السوری کی تصویر شامی بچوں کے نام پر کاروبار کرنے والوں کا ایک نیا حربہ ہے۔ سوشل میڈیا پر کئی طرح کے سوالات کھڑے کرکے عمران کے معاملے کو نظرانداز کرنے کی مذموم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ پوچھا جا رہا ہے کہ صرف عمران السوری کی تصویر کو اتنا کیوں کر اچھالا گیا۔

ایرانی ٹیلی ویژن چینلوں نے عمران کی حالت پر رو پڑنے والی امریکی ٹی وی پیش کار کو بھی طنرز تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور کہا گیا ہے کہ امریکی ٹی وی اینکر کا عمران پر رونا مگر مچھ کے آنسو بہانے کے مترادف ہے۔

بعض عناصر نے سرے سے عمران السوری کو تسلیم کرنے سے انکارکیا ہے اور کہا ہے کہ یہ تصویر محض ’فوٹو شاپ‘ کا کمال ہے اور اسے بشارالاسد، حزب اللہ اور ان کے دیگر حامیوں کو بدنام کرنے کا مخالفین کا مکروہ حربہ ہے۔ ٹی وی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران نامی بچے کی خون آلود تصویر شائع کرکے حلب میں جاری کشت وخون سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں